نگران وزیر اعظم کی طرف سے بدترین لوڈشیڈنگ کانوٹس لینا حوصلہ افزا ہے‘میاں مقصود احمد

صنعت تباہ وبربادہونے سے مزدوروں کے گھروں میں نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے‘عوامی وفود سے گفتگو

بدھ جون 20:45

نگران وزیر اعظم کی طرف سے بدترین لوڈشیڈنگ کانوٹس لینا حوصلہ افزا ہے‘میاں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صدر اور امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ نگران وزیر اعظم کی جانب سے بدترین لوڈشیدنگ کانوٹس لینا حوصلہ افزا ہے،،رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے،سابق وزیر اعظم نوازشریف کایہ کہناکہ ہم بجلی کوپوراکرکے گئے تھے،،لوڈشیڈنگ کی ذمہ داراب نگران حکومت ہے ،یہ قوم کے ساتھ سنگین مذاق اور قوم کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

پوری قوم کو معلوم ہے کہ جو حکمران2013میں6ماہ کی لوڈشیدنگ کے خاتمے کے دعویدار تھے وہ 2018تک توانائی بحران پر قابو نہ پاسکے اور قوم کوجھوٹے دعوئوں سے بہلاتے رہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمنصورہ میں عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میںبھی سحروافطاراور نمازتراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے جس سے روزہ داروں کو سخت اذیت کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔

اگر مسلم لیگ(ن)کی سابقہ حکومت نے سنجیدگی کامظاہرہ کیاہوتاتو آج ملک سے نہ صرف لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوچکاہوتا بلکہ بجلی کے بدترین بحران کاہمیں سامنا نہ کرنا پڑتا مگربدقسمتی سے ماضی کے حکمرانوں نے عوام کو طفل تسلیوں کے سواکچھ نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ عوام الناس کی زندگی عملاً اجیرن ہوگئی ہے۔2018کے انتخابات سیکولر اور فرسودہ نظام کے پیروکاروں کے لیے ڈرائوناخواب ثابت ہوں گے۔

عوام دوپارٹی سسٹم سے تنگ آچکے ہیں۔۔عمران خان نے بھی تبدیلی کے نام پر قوم کومایوس کیا ہے۔ان کے اردگرد بھی نااہل کرپٹ اور قبضہ مافیا اکھٹے ہوچکے ہیں۔ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے عوام کے اصل نمائندوں کو آگے لانا ہوگا۔عوام70برسوں سے کرپٹ اور مفادپرست ٹولے کے رحم وکرم پر ہیں۔ماضی کے حکمرانوں نے ملک وقوم کوترقی اور روشن مستقبل کے خواب تودکھائے مگر اپنی کارکردگی سے شدیدمایوس کیا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں مسائل کے انبارلگے ہیں۔مہنگائی،بے روزگاری،لاقانونیت جیسے سنگین مسائل جوں کے توں ہیں۔غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے صنعت تباہ وبرباد ہوچکی ہے۔مزدوروں کے گھروں میں بے روزگاری کے باعث نوبت فاقہ کشی اور خود کشی تک پہنچ چکی ہے۔کوئی بھی غریب عوام کاپرسان حال نہیں ہے۔