نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر)دوست محمد خان سے جوڈیشری گاڑیاں واپس لینے کاحکم دوست محمد اب جج نہیں رہے، پولیٹکل امپلائیڈ ہیں انہیں حکومت کی گاڑی دی جائے،چیف جسٹس ثاقب نثار

سپریم کورٹ نے صوبے کے تمام ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنر ز تحلیل کرنے کے احکامات جاری کردئیے

بدھ جون 21:01

نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر)دوست محمد خان سے جوڈیشری گاڑیاں واپس لینے کاحکم ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جوڈیشری گاڑیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر)دوست محمدخان سے گاڑیاں واپس لینے کی ہدایت کی ہے دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے گاڑیوں کو خراب نہیں کرنا،جوڈیشری گاڑیوں کے استعمال کے لیے منصوبہ بنائیں ۔آفیسرز سے واپس لی گئی گاڑیوں کو دوبارہ استعمال میں لایا جائے ، چیف جسٹس نے اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے سیکرٹریز کو اس متعلق قانون سازی کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے حکم دیاکہ جسٹس (ر)دوست محمد سے جوڈیشری کی گاڑیاں واپس لیکرانھیں صوبائی حکومت کی گاڑی دی جائے کیونکہ اب وہ جج نہیں رہے، پولیٹکل امپلائیڈ ہیں۔۔چیف جسٹس نے عوام کوبجلی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت بھی کی اس موقع پر پیسکوچیف نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں عدالت کوبتایاگیاکہ ہماری پیداوار اکیس سو میگاواٹ ہے لیکن ڈیمانڈ تین ہزار ہے ، جب بھی ڈیمانڈ بڑھتی ہے سسٹم جواب دے دیتا ہے، ہمارے سسٹم کمزور ہیں۔

(جاری ہے)

ادارہ خسارے میں ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ کیوں پیسکو خسارے میں ہی کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کے ادارے کو،آپ سسٹم بہتر نہیں کر پائے جس پر پیسکوافسرنے کہاکہ بل ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے خسارہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹوں تک بجلی جاتی ہے ،کم سے کم تین گھنٹے بجلی نہیں ہوتی ،کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں لائن لاسز نوے فیصد سے زیادہ ہیں، ہمیں اس سال ڈیڑھ ارب اور اگلے پانچ سالوں کے لیے پانچ ارب کی ضرورت ہے لیکن ہمیں سات سے آٹھ سو ملین سالانہ دیے جاتے ہیں ،،چیف جسٹس نے کہاکہ ضرورت ہے تو ہم اپکے لیے چندہ اکٹھا کر لیتے ہیں ،آپ کی تنخواہیں تو کم نہیں ہورہیں ،لوگوں کو بجلی نہیں مل رہی ،اگر آپ ڈیلور نہیں کرسکتے توآپ کی تنخواہ بھی کم ہونی چاہیے، انڈسٹری کو بجلی دی جائے، مگر گھروں کو بھی ضروری ہے، ہمیں بتائیں شہریوں کو کیسے کب بجلی ملے گی۔

چیف جسٹس نے بجلی بنانے والی کمپنیوں کو طلب کرلیا۔۔سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے چیک پوسٹوں سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کوبتایاکہ پشاور میں 84 چیک پوسٹ ہیں، پولیس کی 59 میں سے 23 رہ گئی ہیں، 13 نواحی علاقوں میں ہیں باقی 10 شہر میں ہیں، 25 آرمی کی چیک پوسٹ ہیں جن میں زیادہ کینٹ میں ہیں ، تیرہ بلاک روڈ ہیں جن میں سے آٹھ کھول دی گئی ہیں 37 بلڈنگ میں بلاک لگائے گئے تھے وہ ہٹا دئے گئے ہیں ،،چیف جسٹس نے کہا کہ ایرانی اور امریکی قونصلیٹ کے سامنے رکاوٹیں نہ ہٹائی جائیں۔

انہوں نے رکاوٹیں ہٹانے پراطمینان کااظہار کیا اورساتھ یہ ہدایات جاری کیں کہ عید سے پہلے مزید چیک پوسٹیں ہٹائی جائیں۔بعدازاں جسٹس ثاقب نثار نے صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت محکمہ ماحولیات کی رپورٹ میں بتایاگیاکہ صوبے میں سیمنٹ کے سات، سٹیل کی پچیس ، چک بورڈ کے چودہ ملیں ہے کرش کے 675 پلانٹس ، 881 بھٹیاں جبکہ چھ شوگر مل ہیں دس ماہ میں 828 کیسز ماحولیاتی آئے ٹربیونل میں جرمانے کئے گئے 289 کیسز پر فیصلہ ہوا 20.3ملین جرمانہ وصول کیا جا چکا ہے اس موقع پر موجود ٹربیونل کے سربراہ کو چیف جسٹس نے کہاکہ آپکو پتہ ہے کہ پشاور سب سے آلودہ ترین شہر ہے ، جرمانوں سے بات نہیں بنے گی کتنے کارخانے بند کیے۔

پرائیویٹ میڈیکل کالجز کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کمیشن نے عدالت کوبتایاکہ آٹھ لاکھ 47 ہزار فیس لینے کا تمام میڈیکل کالجز کو بولا ہے۔ پنجاب گئے وہاں بھی 80 فیصد میڈیکل کالجز کے بچوں سے ڈونیشن لیے گئے ہیں۔ 37کالجز کے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اب تک 29 کروڑ روپے عدالت کے حکم سے وصول کیے جا چکے ہیں ۔الراضی میڈیکل کالج میں 151 چیک دیے ہیں جہاں سو سے زائد بچوں کے چیک باونس ہوئے ہیں، جب ٹیم گئی تو الراضی میڈیکل کالج کا ریکارڈ غائب ہو چکا تھا جناح میڈیکل کالجز والوں نے تعاون نہ کیا ، ان کی حالت الراضی سے بھی بری ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کتنے دنوں میں حالت بہتر ہوگی، میڈیکل کالجز وقت بتا دیں، کب تک وہ اپنی اصلاح کر سکتے ہیں ،تین ہفتے دے رہا ہوں اگر فیسیں ادا نہیں کی گئی تو پھر ان کے خلاف پرچے درج ہوں گے۔

چیف جسٹس نے صاف پانی کی فراہمی کیس کے دوران سیکرٹری پبلک ہیلتھ کو خصوصی ہدایت جاری کیں کہ ہر ماہ اپکے تمام ٹیوب ویلز کے پانی کے معیار کی رپورٹ آنی چاہیے ، انڈسٹریل فضلے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ اب تک کیابہتری آئی ہے جس پر چیف سیکرٹری نے کہاکہ ماسٹر پلان بنایا ہے 23ارب روپے لاگت آئے گی اس سال صرف پانچ ارب روپے فضلے کو تلف کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں سی ایم نے خود تسلیم کیا کہ ہاں ہم نے اس متعلق کچھ نہیں کیا حکومت خصوصا ایکزیکٹوز اس کے ذمہ دار ہیںعدالت عظمی نے حکم جاری کیاکہ آنے والی حکومت انڈسٹری کی فضلے کو تلف کرنے کے متعلق قانون سازی کرے اور فنڈ مختص کرے ،،عدالت نے عطائیوں کو رجسٹرڈ کرنے سے متعلق درخواست خارج بھی خارج کردی۔

سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں ایوب میڈیکل کمپلیکس کے حوالے سے کیس کی سماعت بھی ہوئی چیف جسٹس نے چیف ایگزیکٹیوکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ٓآپکے آپریشن تھیٹر جانے کے قابل نہیں جس پرچیف ایگزیکٹو ایوب میڈیکل نے کہاکہ میں جب ہسپتال کا انچارج بنا تو آ حالت دیکھ کر تین دن ڈپریشن میں رہا ایڈمینسٹر کو ہٹا دیا ، ہسپتال کی حالت چھ ماہ میں بہتر ہو جائے گی ہمیں کچھ وقت دیا جائے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہاکہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ہیلتھ کام کے بندے ہیں ،مسائل کو حل کرنے میں مزید کام کریں، ایسے دو تین چیف سیکرٹری آجائیں تو ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے، چیف جسٹس نے صوبے کے تمام ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنر ز کے تحلیل کرنے حکم دیتے ہوئے کہاکہ نئی حکومت آنے تک موجودہ بی او جیز کام کرسکتے ہیں ،نئی حکومت کے قیام کے بعد نئی بی او جیز بنائے جائیں۔

چیف سیکرٹری سمری لے کر جائیں اور بورڈ کو ختم کر دیں جس پر چیف سیکرٹری نے نئے بورڈکیلئے سمری بھجوانے کی حامی بھری۔ عدالت میں ڈاکٹروں اور انتظامیہ کی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ پر چیف جسٹس نے کہاکہ مجھے شرم آتی ہے جب انتظامیہ کے اس رویے کو دیکھتا ہوں موجودہ بورڈز مزید تین ہفتے تک فعال رہ سکتے ہیں اسکے بعد تحلیل ہو جائیں گے۔