موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے حادثات اور میڈیکل ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس میں نمایاںاضافہ ہوا ہے،ڈی جی ریسکیو

بدھ جون 21:04

لاہور۔6 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے حادثات اور میڈیکل ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس کی وجہ سے پنجاب ایمرجنسی سروس کی مجموعی کارکردگی میں نمایاںاضافہ ہوااور مجموعی ریسپانس ٹائم میں بہتری آئی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایمرجنسی سروسز ہیڈکوارٹرز میں ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہاکہ موٹر بائیک فرسٹ ریسپانڈرز کی پیشہ وارانہ کارکردگی بہت بہتر ہوئی ہے اور شہری علاقوں میں ایمرجنسی کے شکار لوگوں کوپیشہ وارانہ طریقے سے بروقت امداد فراہم کرنے پر شہریوں میں احساس تحفظ اضافہ ہوا ہے۔

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا آغاز 10اکتوبر،2017کو لاہور ، بعد ازاں ساہیوال، گوجرانوالہ، ڈی جی خان، فیصل آباد، بہاولپور، ملتان،، سرگودھا اور راولپنڈی کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز900موٹربائیک ایمبولینس اور ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن سے ہوا۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کو منعقدہ میٹنگ میں بریفنگ دی گئی کہ موٹر بائیک ایمبولینس سروس نے 54302روڈ ٹریفک حادثات ، 36198میڈیکل ایمرجنسیز ، 1845بلندی سے گرنے کے واقعات، 3110کام کے دوران پیش آنے والے حادثات، 1926کرنٹ لگنے ، ڈیلیوری کیسز اور انیمل ریسکیو کے واقعات ، 24ڈوبنے کے واقعات، 1577کرائم ایمرجنسیز،1200آگ لگنے کے واقعات ،20عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات، 8سلنڈر دھماکوںجیسے واقعات پر ر یسپانڈ کیا۔

ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ موٹر بائیک ایمبولینس جدید آلات بشمول تربیت یافتہ میڈیکل سٹاف ،بلڈ پریشر مانیٹر، لائف سیونگ میڈیسن،گلوکو میٹر، پلس آکسیمیٹر ، پورٹ ایبل آکسیجن سلنڈر، سروائیکل کالر، ائیر وے اور برن کٹ، ٹرامہ کٹ، سپلنٹس اورآٹومیٹیڈ ایکسٹرنل ڈیفیبرلیٹر کے ساتھ پنجاب بھر میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً550ایمرجنسیز پر ریسپانڈ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سروس اپنے وسائل موثر طریقے سے برئوے کا ر لائے اور اب یہ سروس صوبہ بھر کے شہریوں میں تحفظ کی علامت بن گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سروس جدید آلات سے لیس ہونے کی بدولت جائے حادثہ پر موثر ایمرجنسی منیجمنٹ ،زندگی کی بقاء کی شرع میں اضافہ، استحکام اور اس گاڑیوں کی کم قیمت پر مرمت کی وجہ سے گنجان آباد علاقوں ، تنگ گلیوں اور ٹریفک جام جیسی سڑکوں پر ایمرجنسی کو ریسپانڈ کرنے میں قابل ذکر کامیابی ملی ہے۔