چا ئنا اوورسیز پو رٹ ہو لڈنگ کمپنی اور ایف پی سی سی آئی کے ما بین ایم او یو پر دستخط

بدھ جون 21:29

چا ئنا اوورسیز پو رٹ ہو لڈنگ کمپنی اور ایف پی سی سی آئی کے ما بین ایم ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر طارق حلیم کی خصوصی دعوت پر چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) کے چیئرمین چانگ بائوژونگ نے گذشتہ روز فیڈریشن ہا ئوس کراچی کا دورہ کیا اور ایف پی سی سی آئی کے اراکین کو گوادر کی بندر گا ہ اور فر ی اکنامک زون میں تر قیا تی منصوبو ں اور ایف پی سی سی آئی کو گوادر میں اپنی نئی بلڈنگ بزنس سینٹر میں دفتر مفت مہیا کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

ایف پی سی سی آئی اور چائنا اوورسیز پورٹ ہو لڈنگ کمپنی کے درمیان طارق حلیم نے گوادر میں 7 مارچ 2018ء کو ایم او یو پر دستخط کئے تھے۔ اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر سید مظہر علی نا صر ، نا ئب صدور طا رق حلیم ،سعید ہ بانو، سابق صدر ایف پی سی سی آئی اور سابق چیف ایگز یکٹوTDAP ایس ایم منیر اور بڑی تعداد میں بزنس کمیونٹی نے شر کت کی۔

(جاری ہے)

ایف پی سی سی آئی کے نا ئب صدر طا رق حلیم نے چا ئنا اوورسیز پو رٹ ہو لڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) کے چیئرمین چانگ بائوژونگ کا فیڈریشن ہا ئوس آنے پر خیر مقدم کر تے ہو ئے کہاکہ ایف پی سی سی آئی کی انتھک محنت اور کو ششوں سے چا ئنا اوورسیز پو رٹ ہو لڈنگ کمپنی اور ایف پی سی سی آئی کے درمیان ایک معاہد ے پر دستخط ہوئے جس میں چینی کمپنی اپنی نئی بلڈنگ بز نس سینٹر گوادر میں ایف پی سی سی آئی کو فر ی دفتر مہیا کرنے کا کہا ہے۔

ا نہوں نے کہاکہ گوادر پورٹ سے شروع کی جانے والی کنٹینر لائن کی سروس کے تحت ہر بدھ کو مال برادر بحری جہاز گوادر آتا ہے جو محدود مقدارمیں کارگو چین اور مڈل ایسٹ کی بندر گاہوں تک لے جا رہا ہے جس میں سی فوڈ بھی شامل ہے۔ طارق حلیم نے بتایا کہ گوادر سے چین ایکسپورٹ کی جانے والی سی فوڈ کو چین میں منہ مانگی قیمت پر خریدا جا رہا ہے اسی طر ح پاکستان کی کوئی بھی مصنوعات چین جانے پر چینی خریداروں کی جانب سے والہانہ دلچسپی کااظہار کیا جا رہا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر سید مظہر علی ناصر نے کہاکہ ایف بی آرنے گوادر کی بند رگا ہ پر کمیونی کیشن کی موثر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کلیئر نگ کے One Window آپریشن کسٹم کی سہولت عارضی طور پر استعمال کر نے کی اجازت دے دی ہے۔ اس موقع پر چائنا اوورسیز پو رٹ ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) کے چیئرمین چانگ بائوژونگ نے کہاکہ گوادر فر ی اکنامک زون کے پہلے فیز میں تمام زمین بک ہو چکی ہے اور پہلے فیز میں 10 سر مایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے اجازت نامے دئیے جاچکے ہیں جن میں سے 4 پاکستانی کمپنیاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پہلے زون کی تعمیر پر 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے گوادر کی آبادی کو پورٹ پر نصب ڈی سلینیشن پلانٹ سے میٹھے پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ گوادر کا اسمارٹ سٹی ماسٹر پلان بھی اگست تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ چانگ بائوژونگ نے بتایا کہ چین گودار کی مقامی آبادی کی سماجی بہبود اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔

سی او پی ایچ سی کے ہیڈ آف مارکیٹنگ سید شہزاد سلطا ن نے کہاکہ گودار میں تین سو بستر وں کا ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے اس وقت بھی 14 ماہر چینی ڈاکٹرز گوادر میں تعینات ہیں، گوادر کی آبادی کو تین لا کھ گیلن یومیہ پانی ٹینکروں کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے جس کے لیے بلوچستان حکومت سے باضابطہ معاہدہ طے پاگیا ہے پانی کی فراہمی کا آغاز رمضان میں کیا گیا پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی کے لئے بھی غیر منافع بخش تنظیموںکے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔