کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے گلابی سنڈی کاتدارک بہت ضروری ہے،آصف علی

بدھ جون 21:30

ملتان۔6 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) محمد نوازشریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں سیکرٹری پنجاب زراعت کی ہدایات کی روشنی میں گلابی سنڈی اور سفید مکھی کی مانیٹرنگ اور منیجمنٹ کے حوالے سے ایک روزہ ٹریننگ ورکشاپ کاافتتاح کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ سفید مکھی اور گلابی سنڈی کاتدارک بہت ضروری ہے اس کے لیے جاممعہ محکمہ ززاعت توسیع کے عملے کوہرطرح کی ممکنہ ٹیکنیکل سپورٹ دی ن کے لئے ہروقت تیارہیں۔

آج کی ٹریننگ اسی سلسلے کڑی ہے ۔ٹریننگ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ اینٹومالوجی پروفیسر ڈاکٹرشفقت سعید نے سفید مکھی کی پیسٹ سکائوٹنگ کے مختلف متبادل طریقہ کار،،میزبان پودوں پر اس کی آبادی اور اس کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے تفصیلی پریزٹیشن دیتے ہوئے کہاکہ سفید مکھی کے خاتمے کیلئے درج ذیل سفارشات مرتب کی گئی ،1۔

(جاری ہے)

سفید مکھی کے انڈے مجموعی طورپر 55فیصد اور اوربچے 25فیصد تعداد میں ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ نقصان (بچی)لاروا پہنچاتے ہیں۔

2۔دوست کیڑوں کی افزائش نسل میں مددگار جڑی بوٹیاں(شاہترہ،پارتھینم،اک،جنگلی پالک اور باتھووغیرہ شامل ہیں)ان کی کھیتوں کے باہر تلفی روکی جائے۔3۔کیمیائی طریقہ انسداد میں سپائیر وٹیٹرامیٹ،پایئرپراکیشن،پروقیٹرین اور ڈائی فینتھران کااستعمال کیا جائے۔مزید براں ٹریننگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع پنجاب ظفریاب حیدر نے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹرآصف علی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ جامہ اس طرح کی معلوماتی تربیتی ورکشاپس کرواتا رہتا ہے تاکہ کسان کی ترقی ہوسکے اور ملک خوشحال ہوسکے۔

شعبہ اینٹومالوجی کے سبجیکٹ ایکسپرٹ ڈاکٹر محمد ارشد شکیل نے ٹریننگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر زراعت توسیع ظفریات حیدر سے درخواست کی کہ گلابی سنڈی کے تدارک کیلئے ماہرسائنسدانوں کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ اس مسئلے کوماہرسائنسدان کی رائے کے مطابق تجاویز مرتب کرکے پالیسی بنائی جائے۔جامعہ کے شعبہ ایگریکلچر انجینئرنگ کے چیئرمین ڈاکٹر انجینئر عالمگیر اختر خان نے سپرے کی مختلف تکنیک پر تفصیلی بریفنگ دی ۔