چوہدری نثار کا حلقہ این اے 63,انتخابات میں پلڑا کس کا بھاری رہے گا،سروے سے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا

سروے کے مطابق حلقے میں 60 فیصد لوگوں کی حمایت تحریک انصاف،26 فیصد لوگوں کی حمایت مسلم لیگ ن جبکہ چوہدری نثار اگر بطور آزاد امیدوار کھڑے ہوئے تو محض 5 فیصد لوگ ان کے ساتھ ہوں گے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جون 21:32

چوہدری نثار کا حلقہ این اے 63,انتخابات میں پلڑا کس کا بھاری رہے گا،سروے ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-06 جون 2018ء) ::چوہدری نثار کا حلقہ این اے 63,,انتخابات میں پلڑا کس کا بھاری رہے گا،سروے سے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا۔ سروے کے مطابق حلقے میں 60 فیصد لوگوں کی حمایت تحریک انصاف،،26 فیصد لوگوں کی حمایت مسلم لیگ ن جبکہ چوہدری نثار اگر بطور آزاد امیدوار کھڑے ہوئے تو محض 5 فیصد لوگ ان کے ساتھ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق 2018 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔

جیسے جیسے انتخابات قریب سے قریب تر آ رہے ہیں سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔سیاسی کارکنان اور رہنما اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت سیاسی وفاداریاں تبدیل کررہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں نے بھی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔اس حوالے سے سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھی انتخابات کے حوالے سے مختلف پیشگوئیاں شروع کر دی ہیں جبکہ قبل از وقت انتخابات کے نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف صحافیوں کی جانب سے سروے بھی کئیے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی قسم کا ایک سروے معروف صحافی عاصمہ شیرازی نے کے پروگرام میں بھی پیش کیا گیا کہ اس سروے میں واہ اور ٹیکسلا کے لوگوں کی سیاسی وابستگی جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار نے انتخابات لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس سے قبل بھی وہ اس علاقے سے انتخاب لڑ کر جیت بھی چکے ہیں۔

نجی چینل کے ذریعے کروائے گئے سروے کے نتائج نے نہ صرف سیاسی پنڈتوں کو بڑا جھٹکا دے ڈالا بلکہ چوہدری نثار کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔سروے کے مطابق حلقے میں 60 فیصد لوگوں کی حمایت تحریک انصاف کے ساتھ ہے جبکہ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن موجود ہے جسے 26 فیصد شرکا کی حمایت حاصل ہے۔تیسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی ہے جسے 6 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے ۔
چوہدری نثار کے حوالے سے اس سروے میں کہنا تھا کہ اگر چوہدری نثار اس علاقے سے بطور آزاد امیدوار کھڑے ہوئے تو محض 5 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل کر پائیں گے۔اس فہرست میں سب سے نیچے متحدہ مجلس عمل ہے جسے 3 فیصد شرکا کی سیاسی ہمدردی حاصل ہے۔