پشاور، نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد کی زیر صدارت صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے ساتھ اجلاس

عام انتخابات کا پرامن ، آزاد اور شفاف انعقاد یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی ہدایت آئینی اختیار ا ت کے حدود میں انتخابات کے شفاف انعقاد کیلئے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا نا ہو ں گی ،جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد ہر شخص کو مخلص اور وفاداری کے ساتھ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھر پور معاونت کرنی چاہیئے ،نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

بدھ جون 23:11

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد نے عام انتخابات کا پرامن ، آزاد اور شفاف انعقاد یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ آئین میں دیئے گئے اختیار کے مطابق ہمیں انتخابات کے شفاف انعقاد کیلئے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا نا ہو ں گی ۔ ہر شخص کو ملک کے ساتھ مخلص اور وفادار ہونا چاہیئے اور اُسے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھر پور معاونت کرنی چاہیئے ۔

وہ صوبے کے نگران وزیراعلیٰ کا حلف اُٹھانے کے فوری بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میںصوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اعظم خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش بھی اجلاس میں موجود تھے ۔

(جاری ہے)

نگران وزیراعلیٰ نے بیوروکریسی سے کہاکہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور حکمرانی کے مجموعی نظام کو آئین کے تابع بناتے ہوئے ملک کے ساتھ وفاداری کا اظہار کریں انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس ڈیلیو رکرنے کیلئے محدود وقت ہے اور ہم نے اسی محدود وقت میں خدمات و سہولیات سے محروم عام آدمی کو ڈیلیور کرنا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ حکومتی مشینری کو کم سے کم اور قابل توجہیہ اخراجات کی اجازت ہو گی ۔ کوئی عید ملن یا افطار پارٹی نہیں ہو گی ہم زیادہ سے زیادہ وسائل بچا کر تعلیم اور صحت کی سہولیات کی بہتری میں خرچ کریں گے ۔ ہم نے غیر ضروری اخراجات کی حوصلہ شکنی کرنی ہے اور کم سے کم اور ضرورت کے مطابق اخراجات یقینی بنانے ہیں۔ انہوں نے چیف سیکرٹری کو بھی ہدایت کی کہ وہ عوامی مفاد میں فعال ذمہ داریوں کیلئے ضلعی انتظامیہ کو مستعد رکھیں۔

دوست محمد خان نے کہاکہ یہ ملک قدرتی آفات اور انسان کی اپنی پیدا کردہ مشکلا ت سے دو چار رہا ہے اور سرکاری مشینری کو عوامی جلسے جلسوں کیلئے غیر معمولی سکیورٹی فراہم کرنی پڑتی ہے ۔ انہوںنے حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں میں ڈیلیوری یقینی بنائیںاور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت چوکس رہیں۔ انہوںنے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حکام اور ضلعی انتظامیہ کو ریڈالرٹ رہنے کا مراسلہ جاری کریںاور اُنہیں باقاعدگی سے سسٹم کی نگرانی کرنے، سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے اور ضرورت کی اشیاء کا انتظام کرنے کا پابند بنائیں۔

کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی تباہی میں سب سے پہلے خیبرپختونخوا متاثر ہوتا ہے اور بعد میں اُس کے اثرات دیگر صوبوں تک پہنچتے ہیں۔ انہوںنے پی ڈی ایم اے کوپگھلنے والے گلشیئرز کے علاقوں ، مشکلات کی اقسام کا جامع رپورٹ تیار کرنے اور مشکلات کے ازالے کیلئے وسائل جمع کرنے کی ہدایت کی ۔

انہوںنے غفلت اور سست روی سے اجتناب کرنے اور مستعدی کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیا ۔ دوست محمد خان نے کہاکہ اگر چہ اُن کی حکومت کی مدت مختصر ہے تاہم وہ پھر بھی نظام تعلیم ، صحت ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، زرعی آبی ذخائر اوردیگر شعبوں میں مستقبل کیلئے قابل عمل رہنما اُصول وضع کرنے کی کوشش کریں گے جو صوبے میں حقیقی تبدیلی کا راستہ ہموار کرسکیں۔

انہوںنے پانی کی قلت والے علاقوں میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ۔انہوںنے دو نمبراور غیر معیاری ادویات ، آبی اور ہوائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے دستیاب وسائل کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کیلئے بہت کچھ کرنا ہے ۔ انہوںنے ضلعی انتظامیہ کو اپنے اپنے اضلاع میں ضروری اشیاء کی قیمتیں کنٹرول کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

انہوںنے کہاکہ حکومت کی رٹ نظرآنی چاہیئے ۔ انہوںنے انفراسٹرکچر اور ہیومین ڈویلپمنٹ کیلئے کام کرنے کا یقین دلایا اور کہاکہ اجتماعی فیصلہ سازی مطلوبہ اہداف کا حصول آسان بنا دیتی ہے اسلئے ہمیں باہمی مشاورت اور مل جل کر عوامی مفاد میں ٹھو س فیصلے کرنا ہوں گے ۔ انہوںنے کہاکہ آزاد ، شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد کیلئے سکیورٹی کا معاملہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست رہے گا۔

انہوںنے یقین دلایا کہ نگران حکومت آئینی ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے الیکشن کمیشن کو بھر پور تعاون فراہم کرے گی ۔ انہوںنے اس موقع پر محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور سرکاری ملازمین سے کہاکہ وہ قانون کے مطابق متعلقہ قواعد و ضوابط کی پیروی کرتے ہوئے اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی یقینی بنائیں۔