نئے ذخائر ِ آب ملکی معیشت کیلئے وقت کی ضرورت ہیں۔ انجینئر عبدالفتاح شیخ

بدھ جون 23:23

سکھر۔ 6جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) ایوان صنعت و تجارت سکھر کے صدرانجینئر عبدالفتاح شیخ نے اراکینِ مجلسِ انتظامیہ اور ایوان کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کی جانب سے دریائے سندھ میں پانی کی کمی سے نئی فصلوں کی بوائی میں تاخیر اور کھڑی فصلوں کے بری طرح متاثر ہونے کے خدشات پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی متنازع آبی ذخیرے کے قیام کو چھوڑ کر متعدد چھوٹے آبی ذخائر بنائے جا سکتے ہیں جس سے زراعت کیلئے درکار پانی کی مطلوبہ مقدار حاصل ہوگی اور پینے کیلئے دریائی پانی کی فراہمی بھی ممکن ہوسکے گی۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا شمار ہونا تشویشناک قرار دیا۔ قدرتی ماحول کی بحالی کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کئے جانے کے ساتھ ساتھ دستیاب پانی کو مختلف مراحل میں ذخیرہ کیا جانا ملک کی معیشت کیلئے لازم و ملزوم قرار دیا کیونکہ پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر منحصر ہے ۔ زرعی ملک ہونے کی بناء پر پانی کی کمیابی براہِ راست ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کریگی جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑیگا۔

متعلقہ عنوان :