امریکا تیل کے بدلے لبنان اور اسرائیل کی درمیان سرحدوں کا تنازع حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کا خواہاں

جمعرات جون 10:40

مقبوضہ بیت المقدس ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) اسرائیلی وزیرتوانائی نے انکشاف کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدوں کے تنازع کے حل کے لیے امریکا ثالثی کی کوششیں کررہا ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق اسرائیلی وزیر اس بیان کے بعد توجہ ایک بار پھر لبنان کی داخلی صورت حال کی طرف مڑ گئی ہے۔یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ امریکا تیل کے بدلے لبنان اور اسرائیل کی درمیان سرحدوں کا تنازع حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل بری اور بحری سرحدوں کے تعین کے لیے تیل کو بہ طور وسیلہ استعمال کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک تیل کے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ لبنان نے البلوکین میں آئل فیلڈ 6 اور 9 میں تیل کی تلاش کے لیے اہم مراحل طے کرلیے ہیں۔

(جاری ہے)

اسرائیل لبنان کے ان منصوبوں کو متنازع قرار دے کر ان پر اپنا حق جتلانے کی کوشش کررہا ہے۔لبنانی حکومت کے ایک عہدیدادارنے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حال ہی میں قصر کے مقام پرایک اہم اجلاس ہوا جس میں لبنانی صدر میشل عون، وزیراعظم سعد حریری اور پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری کے بجائے ڈائریکٹر جنرل سکیورٹی امور میجر جنرل عباس ابراہیم، اقوام متحدہ کی امن فوج کے رابطہ کار بریگیڈیئر امین فرحات، اور بریگیڈیئر رولی فارس نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں امریکا کی طرف سے پیش کی گئی اس تجویز پرغور کیا گیا جس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان تیل کے مشترکہ منصوبوں کے بدلے سرحدوں کے تعین کی بات کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کے بدلے سرحدوں کے تعین کی امریکی تجویز پر بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل نے لبنان کے بعض متنازع علاقوں سے انخلاء پرآمادی ظاہر کی ہے جب کہ خشکی کے 13 متنازع مقامات میں سے 8 پر فریقین میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔