سعودی خواتین ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کو تیار

ہزاروں غیر مُلکی ڈرائیوروں کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 11:57

سعودی خواتین ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کو تیار
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 7 جُون 2018ء) سعودی خواتین مملکت میں 24 جُون 2018ء کو ڈرائیونگ پر سے پابندی اُٹھنے کے بعد ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کے لمحے کی بے چینی سے منتظر ہیں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایسی صورتِ حال میں بہت سے سعودی خاندان اپنے نجی ڈرائیورز کی چھُٹی کروا دیں گے۔ جبکہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ڈرائیور ڈرائیونگ کے علاوہ گھر کے کئی کام بھی انجام دیتے ہیں اس لیے ان کی ضرورت بنی رہے گی۔

ایک ابتدائی رپورٹ کے مطابق 2017ء کے آخر میں ڈرائیوروں کی بھرتی میں 40فیصد کمی دیکھنے کو مِلی۔ اس بات کی بھی توقع کی جا رہی ہے کہ بڑی تعداد میں ڈرائیورز کو نوکریوں سے فارغ کیے جانے کے بعد ڈرائیوروں کی ماہانہ تنخواہ میں 33فیصد تک کمی واقع ہو جائے گا۔ جنرل اتھارٹی آف شماریات کے مطابق 2017ء میں غیر ملکی ڈرائیورز کی گنتی تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار تھی جنہیں 1500سعودی ریال کی اوسط سے تنخواہ دی جا رہی تھی۔

(جاری ہے)

ایک سعودی اخبارنے خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی اُٹھنے کے حوالے سے کئی سعودی فیملیز سے انٹرویو کر کے سوال کیا کہ وہ مستقبل میں اپنے ڈرائیورز کا کیا کریں گی؟ابرار وفا‘ جو سعودی الیکٹریکل انجینئرنگ کی طالبہ ہے‘ کا کہنا تھا کہ وہ تین وجوہات کی بناء پر اپنے ڈرائیور پر انحصار ختم کر دے گی۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ جب وہ شاپنگ کے لیے جاتی ہے تو شاپنگ مال کے باہر ڈرائیور کو گھنٹوں انتظار کرواتی ہے‘ جو اُسے اچھا نہیں لگتا۔

ڈرائیور اُسے اس کی منزل پر پہنچانے اور اُس کا انتظار کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہا۔ سو وہ اس احساس سے آزادی چاہتی ہے۔ دُوسرے‘ اُس کی اپنی ذات اور فیملی کے لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ وہ خود ڈرائیو کرے۔وفا کے مطابق ’’نہ صرف اب کے لیے بلکہ مستقبل میں بھی میری بیٹی کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ کسی غیر ملکی شخص کے ساتھ سفر کرنے کی بجائے خود گاڑی ڈرائیو کرے۔

‘‘ وفا نے تیسری وجہ یہ بتائی کہ اُس کی فیملی کے تمام ممبران ایک ہی ڈرائیور پر انحصار کر رہے ہیں اور اُنہیں ایک دوسرے سے ہر وقت رابطہ رکھ کر بتانا پڑتا ہے کہ کس وقت کس فرد کو ڈرائیور کی ضرورت پڑے گی۔ یہ صورتِ حال ڈرائیور اور فیملی کے ممبران پر اضافی بوجھ ہے۔ اسی لیے بہتر یہی ہے کہ خواتین اپنی کار خود چلاءئیں۔ ماس کمیونیکیشن کی گریجویٹ بیس سالہ ریحاب میکور کا کہنا تھا کہ وہ جُوں ہی گاڑی چلانا شروع کرے گی اپنے ڈرائیور کو نوکری سے فارغ کر دے گی۔

اُس کا کہنا تھا ’’ڈرائیور بہت اچھے ہوتے ہیں‘ مگر جب وہ اپنی قومیت یا مُلک کے لوگوں سے ملتے ہیں تو اُن کے خیالات سو فیصد بدل جاتے ہیں۔ پھر وہ تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں‘ یہ جانتے ہوئے کہ ہم اس پر کتنا انحصار کر رہے ہیں‘ وہ اس ساری صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں دھمکی دیتے ہیں کہ تنخواہ نہ بڑھانے کی صورت میں وہ نوکری چھوڑ دے گا۔

کئی ڈرائیور وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھتے ‘ وہ ہمیں دیر سے ہماری منزل پر پہنچاتے ہیں یا پھر ہمیں لینے کے لیے دیر سے آتے ہیں۔ کئی بار وہ تیار ہونے میں اتنا وقت لگا دیتے ہیں کہ اس سے ہم جھنجھلا اُٹھتے ہیں یا پھر وہ کئی بار غصّے میں ڈرائیونگ کرتے ہیں جس کے باعث ہمیں ناگہانی حادثات اور ٹریفک جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ اگر ہم جرمانے کی صورت میں اپنے ڈرائیور کو موردِ الزام ٹھہرائیں اورسزا کے طور پر اس کی تنخواہ میں کچھ رقم کی کٹوتی کریں تو وہ خوش نہیں ہوتا اور نوکری چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے۔

ڈرائیورز مالکوں کی فیاضی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لالچی بن جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی موقع پرفیملی کا کوئی ممبر اُسے بخشش نہیں دیتا تو وہ اُسے سفر نہیں کروائے گا۔ میں جو رقم ڈرائیور کو دیتی ہوں وہ بچا کر اپنے گھر کی دوسری ضروریات میں استعمال کر سکتی ہوں۔ اگر میں احتیاط سے کار ڈرائیو کرو ں اور ٹریفک رولز کی پابندی کروں تو کوئی وجہ نہیں کہ ٹریفک جرمانوں سے نہ بچ سکوں۔

‘‘ایک اور 30 سالہ خاتون نِدا حافظ کا کہنا تھاکہ وہ ڈرائیورز یا گھریلو ملازموں پر انحصار کرنا پسند نہیں کرتی۔ اُس کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ اُسے اپنے ڈرائیور سے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘ مگر وہ ذمہ دار اورخود مختار محسوس کرنا چاہتی ہے۔ نِدا کے مطابق وہ سپانسر شپ سسٹم کو پسند نہیں کرتی کیونکہ اس صورت میں آپ پر غیر ملکی شخص کی ذمہ داری آ جاتی ہے۔

’’مجھے خود پر بہت بوجھ محسوس ہوتا ہے اگرمیری سپانسر شپ میں میرا ڈرائیور بیمار پڑ جائے یا خدانخواستہ مر جائے ۔‘‘ تاہم نِدا کا کا خیال ہے کہ شروع شروع میں زیادہ خواتین ڈرائیونگ کی طرف نہیں جائیں گی ایسا تبھی ہو گاجب معاشرہ اس نئی تبدیلی کو آہستہ آہستہ قبول 100فیصد قبول کر لے گا۔دُوسری جانب ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی ختم ہونے کے بعد بھی اپنے ڈرائیورز کو نوکری سے فارغ نہیں کریں گے کیونکہ اُن کے خیال میں ڈرائیورز کا اُن کے خاندان میں بہت اہم کردار ہے۔

ایسی ہی ایک پچاس سالہ خاتون ایمان بخاری کہتی ہیں کہ وہ اپنے ڈرائیور کو نوکری سے فارغ نہیں کرے گی۔ وہ کئی سالوں سے اُس کے خاندان کے ساتھ رہ رہا ہے اور گھر کے کئی ضروری کام بھی انجام دے رہا ہے۔ ایمان کے ؔ مطابق ’’ہمارا ڈرائیوراحمد‘ صرف ایک ڈرائیور نہیں‘ بلکہ وہ میرے گھر کے ضروری کام بھی کرتا ہے۔ وہ میرے گھر کا خیال رکھنتا اور پودوں کو روزانہ پانی بھی د یتا ہے۔

میں اس کے اس محنت بھرے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ وہ بجلی اور واٹر پمپ کا خیال رکھنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ بازارسے سودا سلف بھی خرید کر لاتا ہے۔ مجھے ہسپتال بھی لے جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ جدہ کی رش سے بھری سڑکوں پر گاڑی چلانے کا فن جانتا ہے۔اور ویسے بھی میں اس عمر میں ڈرائیونگ نہیں سیکھ سکتی۔‘‘ ایک ریٹائرڈ سعودی عمر رسیدہ شخص عبداالعزیز محمد کا کہنا ہے کہ اُن کا ڈرائیورخاندان کے ایک فرد کی طرح ہے ‘ وہ گزشتہ تیس سال سے اُس کے لیے گاڑی چلا رہا ہے۔

ڈرائیور نے کئی بار اُسے کہا کہ وہ اُسے نوکری سے برخاست کر دے مگر’’ میں اُسے اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا ہوں۔ میری بیوی بھی ہمارے ڈرائیور کو ہمارے خاندان سے دُور نہیں کرنا چاہتی۔ تعطیلات کے دوران گھر سے ہماری غیر موجودگی میں وہ ہمارے گھر کی حفاظت کرتا ہے۔ ‘‘