دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چولہ پہن کر خود جائوں اور چندہ مانگوں‘چیف جسٹس

جمعرات جون 13:15

دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چولہ پہن کر خود جائوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سابق حکو متوں کی جانب سے پانی کے سنگین مسئلہ کو نظر انداز کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ووٹ کی عزت کا مطلب عوام کو بنیادی حقوق دینا ہے، صاف پانی اور صاف ہوا کا ہونا لازمی ہے، مون سون بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے، شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ 4ارب روپے لگا کر بھی ایک قطرہ پانی نہیں نکالا‘ آنے والے دنوں میں قوم کیلئے عذاب بن جائے گا، آصف زرداری اور نواز شریف بتائیں انہوں نے پانی کے لیے کیا کیا ‘کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کی مہم کراچی رجسٹری سے شروع کریں گے، کاش میں پنجابی نہ ہوتا سندھی یا بلوچ ہوتا، ہمیں کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، معاملے کو جذبات نہیں تدبر سے دیکھیں گے‘دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چولہ پہن کر خود جائوں اور چندہ مانگوں۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کالا باغ ڈیم سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ ووٹ کی عزت کا مطلب عوام کو بنیادی حقوق دینا ہے، صاف پانی اور صاف ہوا کا ہونا لازمی ہے، مون سون بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے، شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ 4 ارب روپے لگا کر بھی ایک قطرہ پانی نہیں نکالا، آنے والے دنوں میں قوم کے لیے عذاب بن جائے گا، آصف زرداری اور نواز شریف بتائیں انہوں نے پانی کے لیے کیا کیا سماعت کے دوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ کالا باغ ڈیم کا نام سن کر سندھ اور کے پی کے میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے، اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا، پیپلز پارٹی دور میں صوبوں کو آئینی ضمانت دینے کی بات کی گئی تو صوبوں نے کہا کہ آئین کی اپنی ضمانت کون دے گا۔

چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ہم آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں، ڈیم بنانے سے آخر کس نے روکا ہے، جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بن رہے، عید کے بعد سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت کو بریفنگ دیں گے، کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کی مہم کراچی رجسٹری سے شروع کریں گے، کاش میں پنجابی نہ ہوتا سندھی یا بلوچ ہوتا، ہمیں کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، معاملے کو جذبات نہیں تدبر سے دیکھیں گے، اس پر مکمل بحث کروائیں گے، کالا باغ ڈیم پر کسی صوبے کو دوسرے صوبے سے لڑوانا نہیں چاہتے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کالا باغ ڈیم پر سیمینار کروائے گا۔