تیل کے بدلے لبنان، اسرائیل سرحدوں کے تعین کا امریکی فارمولاکامیاب

اسرائیل کا لبنان کے بعض متنازع علاقوں سے انخلاء، خشکی کے 13 میں سے آٹھ مقامات پر فریقین میں معاہدہ طے

جمعرات جون 13:33

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) توانائی کے اسرائیلی وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدوں کے تنازع کے حل کے لیے امریکا ثالثی کی کوششیں کررہا ہے،عرب ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ لبنان اور اسرائیل بری اور بحری سرحدوں کے تعین کے لیے تیل کو بہ طور وسیلہ استعمال کرسکتے ہیں،دونوں ممالک تیل کے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لبنانی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ قصر کے مقام پرایک اہم اجلاس ہوا جس میں لبنانی صدر میشل عون، وزیراعظم سعد حریری اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے بجائے ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی امور میجر جنرل عباس ابراہیم، اقوام متحدہ کی امن فوج یونیفیل کے رابطہ کار بریگیڈیئر امین فرحات، اور بریگیڈیئر رولی فارس نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس اجلاس میں امریکا کی طرف سے پیش کی گئی اس تجویز پرغور کیا گیا جس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان تیل کے مشترکہ منصوبوں کے بدلے سرحدوں کے تعین کی بات کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ فریقین یعنی اسرائیل اور لبنان بالواسطہ ہونے والی بات چیت میں غیر سرکاری طورپر اس طرح کی تجاویز پر پہلے بھی غور کرتے رہے ہیں مگر اب یہ باضابطہ اجلاسوں میں زیرغور تجویز بن چکی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ تیل کے بدلے سرحدوں کے تعین کی امریکی تجویز پر بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل نے لبنان کے بعض متنازع علاقوں سے نخلاء پرآمادگی ظاہر کی ہے جب کہ خشکی کے 13 متنازع مقامات میں سے 8 پر فریقین میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔