سلامتی کونسل میں مجوزہ ناقص اصلاحات بین الاقوامی قواعدو ضوابط کے تحت چلنے والے نظام کے لئے فائدہ مند نہیں ہوں گی ، پاکستان

جمعرات جون 13:36

سلامتی کونسل میں مجوزہ ناقص اصلاحات بین الاقوامی قواعدو ضوابط کے تحت ..
نیویارک ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کی مخالفت کی ہے اور عالمی برادری کو متنبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں مجوزہ ناقص اصلاحات بین الاقوامی قواعدو ضوابط کے تحت چلنے والے نظام کے لئے فائدہ مند نہیں ہوں گی ۔ کیونکہ ایک بڑی اور زیادہ استحقاقات والی سلامتی کونسل سے اس کا مقصد ختم ہو جائے گا ۔

جبکہ پاکستان اس کی کبھی حمایت نہیں کرے گا اورنہ ہی پاکستان سلامتی میں کوئی اس طرح کی وسعت چاہتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار عالمی ادارہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ فعال اور موئثر بنانے کے لئے اصلاحات کے لئے جاری بین الحکومتی مذاکرات میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی نمائندگی کا مسلسل اور فعال جواب دہی سے گہرا تعلق ہے اور اور ادارہ کی موثریت کا کوئی بھی اقدام کونسل کی موجودہ غیر فعالیت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اٹھایا جائے اور کونسل کی غیر فعالیت کو مزید تقویت نہ دی جائے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے سلامتی کونسل کے منتخب اراکین کی نمائندگی کومزید تقویت دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل میں ایک تہائی اراکین کی نمائندگی نہیں ہے لہذا ان حالات میں وسعت جیسی اصلاحات کا مطلب محض چند اراکین ممالک کو نوازنا ہے جس کے نتیجہ میں زیادہ تر ممالک کونسل میں خدمات پیش کرنے سے محروم رہیں ۔۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل جیسے دو بڑے اہم اداروں میں ادارہ جاتی تعلق کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔

انہوں نے اس ضمن میں مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کے کام تک رسائی اس کے امور میں زیادہ سے زیادہ شرکت کے ذریعے کونسل میں جواب دہی اور شفافیت کو تقویت دی جائے ۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لئے بات چیت کا سلسلہ 2009 ء میں شروع ہواتھا۔