محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت نے نہتے کشمیریوںپر مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے،یاسین ملک

بھارتی پولیس کا خواتین کے خلاف کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور اگر گھنائونی کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو کشمیری ایک بھر پور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے

جمعرات جون 14:30

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت نے نہتے کشمیریوں پر مظالم اور انکی تذلیل کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب لڑکیوںکو بھی گرفتار کیا جاتا ہے اور جب کوئی نوجوان ہاتھ نہ آئے تو بدلے میں اسکے والدین کودھر لیا جاتا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد یاسین ملک کے ساتھ ضلع اسلام آباد کے ایک عوامی وفد نے سرینگر میں ملاقات کے درران انہیں بھارتی فورسز کے مظالم کے آگاہ کیا۔ وفد نے کہا کہ ضلع اسلام آبادکے سپرانٹنڈنٹ پولیس نے ظلم و جبر اور بے شرمی کی سارے حدیں پھلانگ دی ہیں ۔ وفد نے کہا کہ مذکورہ پولیس افسر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ علاقے کی خواتین اور بچیوں کو بھی تھانے میں پیش ہونے کے لیے مجبو ر کرتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو بدلے میں انکے والدین کو گرفتار کر کے تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

وفد کے ارکان نے کہا کہ پولیس نے دو جوان سال بہنوں تنفیہ رسول اور سمیرہ رسول کو کئی روز سے اسلام آباد کے صدر تھانے میں گرفتار کررکھا ہے۔ محمد یاسین ملک نے وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کشمیری خواتین اور بچیوں کے خلاف بھارتی پولیس کی کارروائیوںکو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی پولیس کا خواتین کے خلاف کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور اگر گھنائونی کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو کشمیری ایک بھر پور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے۔

دری اثناء لبریشن فرنٹ نے ایک بیان میں بھارتی فوج کی طرف سے ضلع کپواڑہ کے علاقے ٹنگڈار میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کیے جانے والے دو کشمیری جوانوں شیراز احمد شیخ اور مدثر احمد بٹ کو شاندار خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری جوانوں کی بیش بہا قربانیاں ایک روز ضرور رنگ لائیں گی۔ لبریشن فرنٹ کے ایک وفد نے شہید نوجوانوں کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔