گڈ گورننس اور قانون کی بالادستی نگران حکومت کی ترجیحات ہیں، نگران وزیراعلی سندھ

جمعرات جون 14:32

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) نگران وزیراعلی سندھ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ گڈ گورننس اور قانون کی بالادستی نگران حکومت کی ترجیحات ہیں، ہمارا کام صاف و شفاف انتخابات کروانا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز وزیراعلی ہائوس میں اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ترجمان وزیراعلی ہائوس کے مطابق اجلاس میں تمام صوبائی سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہوں سمیت چیف سیکریٹری رضوان میمن، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، چیئرمین منصوبابندی و ترقی محمد وسیم نے بھی شرکت کی۔

نگران وزیراعلی سندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری افسران اور عملہ عوام کے خادم ہیں اور ان تمام لوگ عام لوگوں کو درپیش مسائل کے تدراک اور ان کی بہبود کے لئے کام کر نا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ نگران حکومت کی ترجیحی ہوگی کہ صوبائی حکومت کے تمام امور میں گڈ گورننس اور تمام سطحوں پر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔نگران وزیراعلی سندھ نے اسٹریٹ کرائم کے خاتمہ کیلئے آئی جی سندھ کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور رینجرز مل کر اسٹریٹ کرائم کا ہر ممکن خاتمہ کرے۔

انھوں نے سیکریٹری آبپاشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چاہتا ہوں کہ محکمہ آبپاشی تیل اینڈ کے علائقوں کو پانی پہنچانے کیلئے مزید بہتر اقدامات کرے، اب تک نہروں میں پانی کی صورتحال کو بہتر کیوں نہیں کیا گیا، پانی کی منصفانہ تقسیم ہمارا اولین فرض ہے، کاشتکار مظاہرا کر رہے ہیں، ہمیں انکی داد رسی کرنی ہے۔ جس پر سیکریٹری آبپاشی جمال شاہ نے درپیش مسائل کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوتے کہا کہ ہم نے پانی کی 100 سے زائد لفٹ مشینیں ضبط کی ہیں اور 18 پانی کی شکایات پر کاروائی کی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے نگران وزیراعلی سندھ کو کے۔فور و دیگر پانی کے منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی کو اس وقت 650 ملین گیلن پانی مل رہا ہے اور جن علائقوں میں پانی کی قلت کا سامنہ ہے وہاں ضلعی انتظامیہ ٹینکرز مہیا کررہی ہے۔سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو نے بھی نگران وزیراعلی سندھ کو اسپتالوں میں فضلہ ٹھکانہ لگانے پر بریفنگ دی جس پر نگران وزیراعلی سندھ نے محکمہ صحت کو اسپتالوں میں فضلہ کو ٹھکانہ لگانے کی ہدایت جاری کی جبکہ اجلاس میں شریک دیگر سیکریٹریوں نے اپنے اپنے محکموں کو درپیش مسائل کے حوالے سے روشنی ڈالی ۔