نیب ریفرنس ،ْ نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں ،ْ پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل

جے آئی ٹی کے نوٹس قطری شہزادے کو موصول ہوئے مگر وہ پیش نہ ہوئے ،ْ مظفر عباسی اگر حسین نواز فلیٹس کے مالک نہیں تھے تو انہیں گراؤنڈ رینٹ ادا کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،ْ دلائل

جمعرات جون 14:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے حتمی دلائل کے دوران کہاہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں۔ جمعرات کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی سماعت کی۔ مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے مسلسل تیسرے روز حتمی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں ،ْ آف شور کمپنی کے ذریعے اصل ملکیت چھپائی گئی۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ قطری شہزادے کا بیان غیر متعلقہ ہے لیکن پھر بھی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی جس کے لیے 24 مئی 2017 کو اسے بیان ریکارڈ کرانے کے لئے بلایا۔

(جاری ہے)

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ جے آئی ٹی کے نوٹس قطری شہزادے کو موصول ہوئے مگر وہ پیش نہ ہوئے جب کہ 11 جولائی 2017 کو قطری شہزادے کا دوسرا جواب آیا لیکن پھر اس نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے اجتناب کیا۔سردار مظفر عباسی نے دلائل کے دوران کہا کہ 22 جون 2017 کو قطری شہزادے کو پھر بلایا گیا اور جے آئی ٹی نے کہا آپ نہیں آتے تو ہم دوحا کے پاکستانی سفارخانے میں آجاتے ہیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ قطری نے شرائط رکھیں کہ وہ نہ تو پاکستانی سفارت خانے میں آئیں گے اور نہ عدالت میں پیش ہوں گے ،ْ جرح میں کہا گیا کہ قطری شہزادے کو دھمکی لگائی گئی، یہ درست نہیں ہے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ 1993 سے 1996 تک حسین نواز طالبعلم تھے اور اس وقت ان کا کوئی ذرائع آمدن نہیں تھا ،ْ وہ ان فلیٹس کے قبضے کو تسلیم کرچکے ہیں ،ْ وہ فلیٹس کا اس وقت سے گراونڈ رینٹ، سروسز رینٹ ادا کرتے رہے ہیں۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ اگر حسین نواز فلیٹس کے مالک نہیں تھے تو انہیں گراؤنڈ رینٹ ادا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ مریم نواز نے جے آئی ٹی میں ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی پیش کی اور کہا کہ یہ اصل ہے جب کہ اس ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق دو رائے ہیں۔ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ایکسپرٹ اسٹیفن موورلے نے دستاویزات نہیں دیکھیں اور عمومی رائے دی جب کہ ایکسپرٹ گلڈ کوپر نے دستاویزات کے جائزے کے بعد رپورٹ تیار کی جو انتہائی اہم ہے۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ اسٹیفن موورلے کی رپورٹ حسین نواز نے جمع کرائی جب کہ گلڈ کوپر کی ایکسپرٹ رپورٹ عمران خان نے فراہم کی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ سامبا بینک کا خط مریم نواز کو لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہونے سے جوڑتا ہے۔ریفرنس میں نامزد سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں جس میں استدعا کی گئی کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے اس لیے 11 تا 15 جون تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

درخواستوں کے ساتھ کلثوم نواز کی نئی میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ استثنیٰ کی درخواست پر 11 جون کو بحث کرلی جائے جس پر عدالت نے فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ نواز شریف پانچ دس منٹ بیٹھ کر جا سکتے ہیں۔