میرکل کو پارلیمان میں تند و تیز سوالات کا سامنا،

اپوزیشن کی مہاجرین کو پناہ دینے پرتنقید ریفیوجی ایجنسی کے حالیہ اسکینڈل کے بعد جرمن چانسلر کب استعفی دے رہی ہیں،ارکان پارلیمنٹ کا سوال

جمعرات جون 14:38

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) جرمن چانسلر انجیلا میرکل کو پہلی بار ارکان پارلیمان کے براہ راست سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ روس سے تعلقات اور مہاجرین سے متعلق موضوعات بھی ان سوالات میں شامل تھے۔ ارکان پارلیمان کے سوالات کا سامنا نئے طریقہ کار کا حصہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن چانسلر کی طرف سے ارکان پارلیمان کے براہ راست سوالات کاجواب دینے کا عمل دراصل اتحادی حکومت کے قیام کے لیے طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے جس کے مطابق چانسلر سال میں تین مرتبہ ارکان پارلیمان کے سوالات کا جواب دیں گی۔

اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے سوالات کے جوابات دینے کے عمل میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں۔اس حوالے سے منعقد ہونے والے پہلے سیشن کے موقع پر انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت آلٹر نیٹیو فار ڈوئچ لانڈ کے ایک رکن کے سوال کے جواب میں جرمن چانسلر میرکل نے روس کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

(جاری ہے)

تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال روس کو دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی ایٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

میرکل کے مطابق جی ایٹ گروپ کی تنظیم سازی کا انحصار بین الاقوامی قوانین کی پیروی پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرائنی جزیرہ نما کریمیا پر روس کے کنٹرول کے بعد اس بات کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔پارلیمان میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اے ایف ڈی کے ایک رکن گوٹ فریڈ کیوریو نے میرکل پر الزام عائد کیا کہ وہ 2015ء میں مہاجرین کے لیے جرمنی کے دروازے کھول کر مہاجرین کے سیلاب کا سبب بنی تھیں جس سے ملک معاشی طور پر بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

کیوریو نے وفاقی ریفیوجی ایجنسی کے حالیہ اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ میرکل کب اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں گی۔اس سوال کے جواب میں تاہم میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی نے غیر معمولی انسانی صورتحال کے ساتھ کامیابی سے نمٹا۔ انہوں نے مہاجرین کے لیے جرمنی کے دروازے کھولنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔