طالبان کے حملوں میں چوری شدہ امریکی جنگی سامان استعمال ہونے کا انکشاف

امریکی جنگی طیاروں نے 40 ہموی گاڑیوں کو تباہ کیا جو طالبان نے گزشتہ چند برس میں افغان آرمی سے چھینیں،رپورٹ

جمعرات جون 14:38

طالبان کے حملوں میں چوری شدہ امریکی جنگی سامان استعمال ہونے کا انکشاف
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان نیٹو افواج کا اسلحہ حاصل کرکے افغان حکومتی اداروں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔امریکی اخبار کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے تقریباً 40 ہموی گاڑیوں کو تباہ کیا جو طالبان نے گزشتہ چند برس میں افغان آرمی سے چھینی تھیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ خبر سے متعلق اعداد وشمار افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے سرکاری شماریات سے حاصل کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق طالبان امریکی جنگی ساز و سامان پر اپنا قبضہ کرکے دور افتادہ علاقوں میں روپوش ہوجاتے ہیں تاہم امریکی جنگی طیاروں کی جانب سے طالبان کے زیر قبضہ ہموی گاڑیوں کی تباہی محض ایک حصہ ہے۔امریکی تفتیش کاروں نے انکشاف کیا کہ طالبان ناصرف جنگی ساز و سامان پر قبضہ کرتے ہیں بلکہ انہیں افغان فورسز پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے وزارت دفاع میں وسیع پیمانے پر کرپشن کے باعث امریکی حکام کو افغانستان ملٹری سے معاملات نمٹنے میں چینلجز کا سامنا ہے۔حال ہی میں پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے انکشاف کیا کہ 2005 کے بعد سے امریکا نے افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے 95 ہزار گاڑیاں خریدیں لیکن اتحادی فوج افغان فورسز اور پولیس پر اعتماد نہیں کرتی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ‘غیرمسلح ہموی گاڑی طالبان کو 70 ہزار ڈالر میں فروخت کی جاتی ہے، میدان جنگ میں نقصان پہنچنے والی ایک ہموی کو بعدازاں مرمت کے لیے بھی لایا گیا’۔امریکی ملٹری کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارٹن او ڈونیل نے اخبار کو بتایا کہ جب نیٹو فورسز کو جنگی ساز و سامان کی چوری کا علم ہوا تو انہوں نے سامان کی بازیابی یا اس کو تباہ کرنے کے لیے فوری حکمت عملی تیار کی تاکہ دشمن فاہدہ نہ اٹھا سکے۔اخبار نے بتایا کہ طالبان کے ہاتھوں امریکی سامان کی چوری سے ان کی جنگی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے، جس کی بنیاد پر امریکی یا افغان اہلکار بن کر گارڈز کو باآسانی دھوکا دے سکتے ہیں۔