روسی و جرمن تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں،ڈِرک ویزے

یوکرائنی امن مذاکرات کیساتھ جرمن تعلقات کوبڑھا یا جا سکتا ہے، مسائل کا بڑھنا روابط کے فقدان سے ہے، پارلیمانی سفیر

جمعرات جون 15:36

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) جرمنی کے نئے پارلیمانی سفیر برائے روس ڈِرک ویزے نے کہا ہے کہ روسی و جرمن تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں،برلن میں یوکرائنی امن مذاکرات روس اور جرمن تعلقات کو مزید آگے بڑھا یا جا سکتا ہے، جرمنی و روس مابین مسائل کا بڑھنا روابط کے فقدان سے ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے نئے پارلیمانی سفیر برائے روس ڈِرک ویزے نے حال ہی روسی دورہ مکمل کیا ہے۔

ویزے کے مطابق ان دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانیسے یہ ملک قریب تر ہو سکتے ہیں۔۔روس کے لیے مقرر جرمن اعلی نمائندے ڈِرک ویزنے ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پہلا روسی دورہ خاصا مفید رہا ہے۔ اس دورے کے دوران ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں قیام کے دوران انہوں نے گرمجوشی کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی لیا کہ عام لوگ اور کاروباری حلقے جرمنی میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ رواں برس کے دوران وہ روس کے مزید دورے کر سکتے ہیں۔ ویزے کے خیال میں گیارہ جون کو برلن میں یوکرائنی امن مذاکرات روس اور جرمن تعلقات کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس اور جرمنی میں خلیج کی وجہ یوکرائنی تنازعہ ہے۔۔جرمنی کے نئے پارلیمانی سفیر برائے روس ڈِرک ویزے نے حال ہی روسی دورہ مکمل کیا ہیروس میں قیام کے دوران اپنی مصروفیات کا احاطہ کرتے ہوئے ڈِرک ویزے کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے علاوہ انہوں نے روس کی سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ بھی خصوصی ملاقاتیں کی ہیں۔

انہوں نے ملاقاتوں کے سلسلے میں روسی صدر کے خصوصی مشیر میخائل فیڈروٹوپ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کو انتہائی اہم قرار دیا۔ فیڈوٹوف روسی صدر کے انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے معاملات کے خصوصی مشیر ہیں۔۔جرمن پارلیمانی سفیر نے بتایا کہ سینٹ پیٹرز برگ ڈائیلاگ میں ان کے ہم منصب میخائل فیڈوٹوف تھے اور مختلف امور پر ہونے والی بات چیت انتہائی مثبت رہی۔

سینٹ پیٹرز ڈائیلاگ حقیقت میں جرمنی اور روس کے درمیان مکالمتی و مذاکراتی فورم ہے۔ رواں برس اس فورم کا اجلاس اکتوبر میں روسی دارالحکومت ماسکو میں ہو گا۔۔روس اور جرمنی کے باہمی تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے ویزے کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار دوطرفہ رابطوں کے تسلسل پر ہے اور دونوں ملکوں کے موجودہ تعلقات کی نوعیت بہت آسان نہیں ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں تعلقات میں نوجوانوں کے ربط و ملاپ کو بہت اہم قرار دیا۔ویزے کے مطابق جرمن اور روسی یونیورسٹیوں کے درمیان رابطہ کاری سے ریسرچ کے شعبے میں بہترین تعاون کا امکان ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک ہزار سے زائد مختلف یونیورسٹی پراجیکٹس میں ریسرچ شروع ہو سکتی ہے۔