سی بی آئی کی عدالت نے مقبوضہ کشمیرجنسی سکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا‘5ملزمان کو 10سال قید کی سزائیں

سابق ڈی ایس پی اور پولیس میں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ رہنے والا محمد اشرف میر، بارڈر سیکیوریٹی فورس کا ڈی آئی جی کے سی پاڈھی،شبیر احمد لاوے، شبیراحمد لانگو اورمسعوداحمد مسعود شامل

جمعرات جون 16:01

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) بھارتی حساس ادارے سنٹرل بیوروآف انٹیلی جنس(سی بی آئی )کی عدالت 12سال قبل مقبوضہ کشمیر میں جنسی اسکینڈل میں ملوث پائے جانے پر 5افرادکو 10سال قید کی سزا سنادی ہے۔سزا پانے والوں میں سابق اعلی پولیس افسران سابق ڈی ایس پی، سابق بارڈرسیکیوریٹی فورس کے ڈی آئی جی بھی شامل ہیں۔جن افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں سابق ڈی ایس پی اور پولیس میں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ رہنے والا محمد اشرف میر، بارڈر سیکیوریٹی فورس کا ڈی آئی جی کے سی پاڈھی،شبیر احمد لاوے، شبیراحمد لانگو اورمسعوداحمد مسعود شامل ہیں۔

عدالت نے اس وقت مقبوضہ کشمیر کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل انیل سیٹھ اور تاجر معراج الدین ملک کو بری کردیا ہے۔ جبکہ اسی سال چندی گڑھ کی عدالت نے سری نگر کے سابق ڈی ایس پی محمد یوسف میر کو بری کردیا تھا۔

(جاری ہے)

اس پر پیسوں کیلئے مقدمے کی اہم ملزمہ شبینہ اور اس کے شوہر کے چلائے جانے والے کوٹھے پرچھوٹی لڑکی کو 2004جنسی زیادتی کانشانہ بنانے کا الزام تھا۔

آج سے 12سال قبل، 2006میں مقبوضہ کشمیر میں پولیس کو دو ویڈیو سی ڈی ملیں تھیں جس میں عورتوں کو جنسی زیادتی کانشانہ بنایاجارہاتھا۔ پولیس نے زیادتی کا شکار اور کوٹھے کی مالکن شبینہ سے پوچھ گچھ کے بعد اسکینڈل میں ملوث 56لوگوں کے نام جمع کیے تھے۔مجموعی طور پر اس مقدمے میں کل 9ملزمان تھے جس میں سے دو شبینا اور عبدالحمید بلااس دوران وفات پاگئے۔۔پولیس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے مطابق چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو بلیک میل کیاجاتاتھا اور انھیں 250سے 500روپے میں طوائف بننے پر مجبورکیا جاتاتھا۔