ویں آئینی ترمیم مسلم لیگ (ن) کی حکومت کاتاریخی کارنامہ ہے جسے آزادکشمیرکے عوام کبھی بھلانہیں سکتے‘ راجہ محمدفاروق حیدرخان جیسے ہمدرد وزیراعظم کی کشمیریوں کو ضرورت تھی

سابق رکن قانون ساز اسمبلی وضلعی صدرمسلم لیگ (ن)میرپور راجہ مقصو د احمدخان کی بات چیت

جمعرات جون 16:01

میرپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) آزادجموںوکشمیرقانون ساز اسمبلی کے سابق ممبروضلعی صدرمسلم لیگ ن راجہ مقصو د احمدخان نے کہاہے کہ13 ویں آئینی ترمیم مسلم لیگ ن کی حکومت کاتاریخی کارنامہ ہے جسے آزادکشمیرکے عوام کبھی بھلانہیں سکتے۔ راجہ محمدفاروق حیدرخان جیسے ہمدرد وزیراعظم کی کشمیریوں کو ضرورت تھی۔ وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے ایکٹ 1974 میں ترامیم کرکے کشمیریوں میں پائی جانے والی بے چینی کوختم کیاہے اور آزاد حکومت کوبااختیاربنایا۔

آزادکشمیرحکومت بااختیار ہونے سے آزادکشمیرکے فیصلے آزادکشمیرمیںہوں گے ناکہ پیپلزپارٹی کی طرح گڑھی خدابخش میں۔ ماضی میں بڑے بڑے قدآورحکمران آئے لیکن کسی کویہ توفیق نہ ہوئی ،کچھ لوگ 13 ویں ترامیم کاکریڈٹ وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدرخان کولیتے دیکھ کوبوکھلاہٹ کاشکار ہیں اور بے بنیاد بیان بازی کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

جب انھیں اقتدار ملاتو وہ ڈکٹیشن گڑھی خدابخش یاکہیں اور سے لیتے تھے۔

ان خیالات کااظہار انھوں نے افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سابق ممبراسمبلی راجہ مقصود احمدخان نے کہاکہ کشمیری عوام کوکھرے اور کھوٹے کی پہچان ہے ۔13 ویں آئینی ترامیم کی مخالفت کرنے والے سیاسی طورپر نابالغ ہیںسیاسی مخالفت اپنی جگہ ریاستی تشخص کودائو پرنہیں لگاناچاہیے۔مخالفت کرنے والے خود جب اقتدار میں آئے تو غلاموں کی طرح جی حضوری کررہے تھے اور اب جب راجہ محمدفاروق حیدرخان نے تاریخ رقم کی تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن آزادکشمیر کے حقوق پرساری جماعتوں کوساتھ دیناچاہیے۔