ملک میں سہولیات نہیں لیکن پاکستانی لڑکیوں میں فٹبال کا جنون ہے،ہاجرہ خان

جمعرات جون 16:04

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) پاکستان میں فٹبال کے کھیل پر چھائی بے یقینی پر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کھلاڑی بھی سخت مایوسی کا شکار ہیں۔۔پاکستان کی صف اول کی خاتون فٹبالر ہاجرہ خان نے کہا ہے کہ برائے نام مواقع ملنے سے پاکستان کی خواتین فٹبالرز کیسے ترقی کر سکتی ہیں، خواتین فٹبالرز کو سال میں صرف ایک قومی چیمپیئن شپ کھیلنے کو ملتی ہے جبکہ دو سال میں ملک سے باہر کھیلنے کا صرف ایک موقع ملتا ہے تو ایسے میں یہ بہتری کی توقع رکھنا درست نہیں۔

اگر آپ سال میں ایک چیمپیئن شپ کرائیں گے اور دو سال میں ایک بار لڑکیوں کو باہر بھیجیں گے تو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی ترقی ہو گی بیشک خواتین کو فٹبال کھیلتے ہوئے دس سال ہو جائیں۔ہاجرہ خان کے خیال میں فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو معطل کیے جانے کا زیادہ نقصان مرد کھلاڑیوں کو ہوا ہے۔

(جاری ہے)

مرد کھلاڑیوں کو زیادہ نقصان ہوا ہے کیونکہ ان کا کھیل زیادہ تھا ان کی لیگز بھی زیادہ ہو رہی تھیں، ان کی چیمپیئن شپ زیادہ کھیلی جا رہی تھیں لیکن ان نوجوان خواتین فٹبالرز کو بھی سخت مایوسی کا سامنا ہے جنھیں کوئی میچ کھیلنے کو نہیں مل رہا ہے۔

ہم سب امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین فٹبال بھی جلد سے جلد دوبارہ شروع ہو گی۔ہاجرہ خان نے پاکستان سپورٹس کے کرتا دھرتاں کی حب الوطنی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں جو لوگ سپورٹس چلارہے ہیں ان میں جذبہ حب الوطنی کی کچھ کمی ہے۔ کھلاڑیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے ہم صرف اس لیے مار کھا رہے ہیں کیونکہ نوجوان کھلاڑیوں کو صحیح سمت نہیں مل رہی ہے۔

ہاجرہ خان کا کہنا ہے کہ خواتین فٹبال پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔خواتین کی کوئی لیگ نہیں ہوئی ہے نہ ہی انٹر کلب چیمپیئن شپ ہوئی ہے۔ ملک میں کھیلوں کا ڈھانچہ خواتین کے لیے موافق نہیں ہے۔ سہولیات نہیں ہیں۔ ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں خواتین کھلاڑی خود کو اجاگر کر سکیں۔ نچلی سطح سے لے کر سینئر ٹیم تک بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

ہاجرہ خان کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں میں فٹبال کا جنون کی حد تک شوق ہے۔لڑکیوں میں فٹبال کا شوق بہت بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ دنوں چیمپئنز لیگ کے فائنل میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں نے بھی دلچسپی لی۔ میسی، رونالڈو اور محمد صلاح خواتین کھلاڑیوں کے رول ماڈل ہیں جن کے میچ وہ باقاعدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ لڑکیوں کو پریمیئر لیگ اور لا لیگا کا پتہ ہے انھیں ویمنز فٹبال کی بھی کافی معلومات ہیں۔