پاکستان سمیت دنیا بھر میں خون کے عطیات کا عالمی دن 14جون کو بھر پور طریقے سے منایا جائے گا

جمعرات جون 16:11

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) پاکستان سمیت دنیا بھر میں خون کے عطیات کا عالمی دن (ورلڈ بلڈ ڈونرز ڈی) 14جون کو بھر پور طریقے سے منایا جائے گا۔ ۔مذکورہ دن کی مناسبت سے صوبائی دارالحکومتوں سمیت تمام ڈویژنل ، ضلعی ، تحصیل ، سٹی ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ تمام شہروں میں خصوصی تقریبات ،کانفرنسز ، ورکشاپس ، مذاکروں ، مباحثوں اور دیگر پروگرامات کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے واکس بھی منعقد کی جائیں گی نیز بڑے شہروں میں بلڈ کیمپس بھی لگائے جائیں گے۔

جہاں شہری تھیلیسیمیا اورخون کی کمی کا شکار دیگر مریضوں کے علاوہ دہشت گردی کی وارداتوں ،قدرتی آفات، ناگہانی واقعات ، ٹریفک حادثات سمیت دیگر واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کیلئے خون کے عطیات فراہم کریں گے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر عالمی ادارہ صحت، محکمہ صحت ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ، اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ، بلڈ ڈونرز ایسوسی ایشن ، علی زیب فائونڈیشن ، تھیلا سیمیا بلڈ ڈونیشن سنٹرز اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے زیر اہتمام تعلیمی اداروں ، بڑی فیکٹریوں اور پبلک مقامات پر خون کے عطیات جمع کرنے کی بھی مہم چلائی جائے گی۔

ماہرین طب نے بلڈ ڈونرز ڈے کے سلسلہ میں بتایاکہ خون کا عطیہ دینا انسانی صحت کیلئے مفید ثابت ہوتا ہے تاہم اس کیلئے وقت ، عمر اور حالات حاضرہ کی بعض حدود و قیود پر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خون کا عطیہ دے کر قیمتی انسانی جانیں بچانے والے دکھی انسانیت کے مسیحا ہیں۔ا نہوںنے کہا کہ خون کی کمی کا شکار لوگوں کیلئے خون کاعطیہ دینا قومی حب الوطنی کا تقاضا ہے۔

انہوںنے بتا یا کہ ورلڈ بلڈ ڈونرزڈے کے دن کارل لینڈ سٹینر کی سالگرہ بھی منائی جاتی ہے جس نے خون میں اے ، بی ، او بلڈ گروپس سسٹم دریافت کر کے نوبل پرائز حاصل کیا۔انہوںنے بتا یا کہ ترقی پ-ذیر ممالک میں ا گرچہ ہر ایک ہزار افراد میں سے 10افراد خون کا عطیہ دیتے ہیں لیکن اس شرح میں اضافہ کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ میڈیکل ایمر جنسی ، ٹراما کیسز، ٹریفک حادثات ، اینیمک خواتین و بچوں ، کینسر کے مریضوں ، سیکل سیل انیمیا ، تھیلا سیمیا ، ہیمو فیلیا اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کو خون کی تبدیلی و بلڈ ٹرانسفیوژن کی ضرورت ہوتی ہے جن کیلئے خون کے عطیات دینا ہر محب وطن شخص کا فرض ہے۔

متعلقہ عنوان :