روزہ دار شدید گرم موسم کے دوران روزہ افطار کرتے وقت ڈی ہائیڈریشن کا خیال رکھیں ، ماہرین طب و غذائیات

جمعرات جون 16:11

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) ڈاکٹروں اور ماہرین غذائیات نی روزہ داروں اور کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شدید گرم موسم کے دوران روزہ افطار کرتے وقت ڈی ہائیڈریشن کا خیال رکھیں اور روزانہ کم از کم 4لیٹر پانی پیئیں۔ جن لوگوں کا بلڈ پریشر کم ہے وہ افطار کے بعد توانائی بحال کرنے کے لئے پانی میں تھوڑا سا نمک ڈال کر پئیں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے تک جسم میں مائع اور خوراک کی کمی سے بلڈ شوگر کا توازن خراب ہو سکتا ہے اور ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر کے مریض خود کو ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رکھیں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر زنے کہا کہ چونکہ رمضان کا مہینہ سخت گرم موسم میں آیا ہے اس لئے روزہ داروں کو اپنی صحت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس اور دیگر شدید امراض میں مبتلا لوگوں کو روزہ رکھنے کے دوران زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے کیونکہ بلڈشوگر میں کمی سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم بلڈ شوگر کے حامل افراد کا روزہ رکھنا ایک مشکل کام ہے اور روزہ کھولنے کے بعد ان کے بلڈپریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے اسی طرح جسم میں پانی کی کمی بھی گردوں میں امراض کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ افطاری اور سحری کے اوقات میں زیادہ طاقتور غذائیں استعمال کی جائیں جن میں انڈے، پنیر، گوشت اور دودھ وغیرہ شامل ہیں، ڈاکٹر وسیم خواجہ نے مزید بتایا کہ کھجوریں توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں جن میں پوٹاشیم اور میگنیشم سمیت بھرپور توانائی موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غذائیں استعمال نہ کی جائیں جن سے بھوک اور پیاس میں اضافہ ہوتا ہے، پولی کلینک کے ماہرین صحت نے کہا کہ روزہ داروں کو کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں استعمال کرنی چاہئیں جن میں برائون بریڈ دلیہ اور ڈیری پراڈکٹس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سحری کے اوقات میں پیٹ بھر کرکھا لینے سے وہ دن بھر اچھا گزارہ کر سکتے ہیں اس قسم کی سوچ نامناسب ہے کیونکہ زیادہ کھانے پینے سے بدہضمی کے علاوہ جسم میں بے اطمینانی پیدا ہو گی اور بھوک پیاس میں اضافہ ہو گا، ایک خاتون ڈاکٹر صباء فیصل نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران تلی ہوئی اشیاء اور روایتی اشیائے خوردنی کھانے پینے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔