امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں پہلی بار افطار ڈنر

تقریب سے خطاب میںٹرمپ کی مسلمانوں کو رمضان کی مبارک باد، کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کا بائیکاٹ

جمعرات جون 16:12

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو مسلمانوں کے لیے وائٹ ہاؤس میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔افطار ڈنر میں امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان ایک ساتھ ٹیبل پر موجود تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تقریب میں متحدہ عرب امارات،، اردن، مصر،، تیونس، عراق،، قطر،، بحرین، مراکش، الجزائر اور لیبیا کے سفیروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افطار عشائیے میں امریکی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ تقریب سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کو ماہ مقدس رمضان کی مبارک باد دی ۔۔ٹرمپ کا کہنا تھاکہ آپ سب حاضرین اور دنیا بھرکے مسلمانوں کو رمضان مبارک! آج کی شام اس تقریب میں ہم سب دنیا کے عظیم ترین مذاہب کی ایک مقدس روایت کا اہتمام کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مسلمان پورے دن پر محیط روزے کے اختتام پر افطار کرتے ہیں جو ماہ مبارک رمضان کے دوران روحانیت کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کے اس افطار عشائیہ کا مسلمانوں کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بائیکاٹ کیا اور وائٹ ہاوس کے سامنے مسلم مخالف پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ہی افطار کیا۔ترجمان کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی مسلمان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کوئی مسلمان تنظیم افطار ڈنر میں شرکت کرنا نہیں چاہے گی، اختلافات حل کرنے کے لیے ایک میز پر بیٹھنا اچھا ہوتا ہے لیکن اب ایسا مشکل ہے۔

امریکا کے سابقہ صدور رمضان المبارک میں افطار ڈنر کا اہتمام کراتے رہے ہیں اور یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے کلینڈر میں شامل رہی ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بنتے ہی اس روایت کو گزشتہ سال توڑ دیا تھا، جس پر وائٹ ہاؤس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی پیغام میں کہا گیا کہ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح مسلمان امریکا میں مذہبی ہم آہنگی بڑھا رہے ہیں۔تاہم اس پیغام کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو رمضان کی مبارکباد کا یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے بجائے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کرنا چاہیے تھا۔