روس کیساتھ شام سے انخلاء کے معاہدے پر معاہدے ایران نواز ملیشیائیں چراغ پا

لبنانی سرحد پرشامی علاقے القصیر میں روسی اہل کاروں کی تعیناتی نے اختلاف پیدا کر دیا،ایرانی کمانڈر

جمعرات جون 16:13

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) شام میں ایرانی وجود کے حوالے سے روس اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ اب ایک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسلے نیبنزیا شام کے جنوب مغرب میں اسرائیل کے ساتھ سرحد کے نزدیک سے ایرانی فورسز کے انخلاء کے حوالے سے معاہدے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ انہوں نے آئندہ چند روز میں اس معاہدے پر عمل درامد کی توقع ظاہر کی ہے۔

ادھرایران کے زیر انتظام ملیشیا کے دو کمانڈروں نے باور کرایا ہے کہ لبنان کی سرحد کے نزدیک شام کے علاقے القصیر میں روسی عسکری اہل کاروں کی تعیناتی نے ایرانی ہمنوا ملیشیاؤں بالخصوص حزب اللہ کے ساتھ اختلاف پیدا کر دیا،عرب ٹی وی کے مطابق شامی حکومت کی سپورٹ کرنے والے اتحاد میں شامل ایک عسکری اہل کار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی فوج نے القصیر قصبے کے نزدیک اٴْن تین ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں پیر کے روز روسی عسکری اہل کار پھیل گئے تھے۔

(جاری ہے)

اہل کار کے مطابق روس نے جو کچھ کیا وہ اسرائیل کو مطمئن کرنے کی خاطر اٹھایا گیا قدم تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا یہ جواز پیش کرنا ممکن نہیں کہ مذکورہ کارروائی حزب اللہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں النصرہ فرنٹ یا داعش تنظیم کے خلاف جنگ کا حصّہ ہے۔یاد رہے کہ مسلح شامی اپوزیشن گروپوں کے خلاف روس کا ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ جیسی فورسز کے ساتھ تعاون دیکھنے میں آ چکا ہے۔

حزب اللہ کے جنگجو 2012ء میں شام میں پھیل گئے تھے جب کہ بشار الاسد کی سپورٹ کے لیے روسی فضائیہ 2015ء میں شام پہنچی۔البتہ روس پر اسرائیلی دباؤ کی روشنی میں شام میں دونوں فریقین کے بیچ ایجنڈوں کا اختلاف زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ روس نہ صرف شام میں ایران اور اس کے حلیفوں کے اثر و رسوخ کے عدم پھیلاؤ کی ضمانت دے بلکہ ان کے کلی طور پر کوچ کرنے کو یقینی بنائے۔