پاکستانی شہری پر طوائف کو قتل کرنے کا الزام

بٹوے میں سے رقم چوری کرنے پر موت کے گھاٹ اُتارا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جون 16:01

پاکستانی شہری پر طوائف کو قتل کرنے کا الزام
دوبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 7 جُون 2018ء) دُبئی کی عدالت میں ایک پاکستانی کو طوائف کا گلہ گھونٹ کر ہلاک کرنے کے الزام میں سنگین سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 33سالہ پاکستانی جو لوہار کے پیشے سے وابستہ ہے‘مارچ 2018ء کے دوران العین سے دوبئی آیا تھا ۔ اس نے جنسی عمل کے عوض جسم فروش مقتولہ کو 150 اماراتی درہم دینے کا سودا طے کیا۔

جو ملزم نے پیشگی ادا کر دیئے۔ جنسی عمل سے فراغت کے بعد ملزم واش رُوم گیا اور جب واپس آیا تو اُس نے طوائف کو اپنے بٹوے کی تلاشی لیتے ہوئے پایا۔ ملزم نے اپنا بٹوہ چیک کیا تو اُس میں 150 اماراتی درہم غائب تھے۔ جس پر ملزم نے مقتولہ کو کہا کہ وہ اُس کے چوری کیے گئے پیسے واپس کر دے۔ جس پر مقتولہ نے اُسے دھمکی دی کہ اگر وہ فلیٹ سے نہ گیا تو وہ پولیس کو بُلا لے گی۔

(جاری ہے)

اس کے بعد مقتولہ جیسے ہی واش روم میں گئی تو ملزم بھی اُس کے پیچھے چلا گیا اور طیش میں آ کر اپنے ہاتھوں سے اُس کا گلہ گھونٹ کر اُسے مار دیا۔ پھر اُس نے خاتون کے پیسے اور دو موبائل فون چوری کیے اور واپس العین چلا گیا۔ کچھ دِنوں بعد مقتولہ کے فلیٹ سے بہت زیادہ بدبو آنے پر ‘ چوکیدار نے پولیس کو طلب کیا جس نے فلیٹ کا دروازہ کھول کر واش روم سے خاتون کی جزوی طور پر گلی سڑی لاش برآمد کر لی۔

پولیس نے مقتولہ کے قاتل کی تلاش جاری رکھی‘ آخر پولیس کو ملزم کا سُراغ اس سٹور سے مِل گیا جہاں اُس نے مقتولہ کے موبائل فونز بیچ دیئے تھے۔ استغاثہ کی جانب سے ملزم پر مقتولہ کے ساتھ جنسی عمل کے بعد اُسے دانستہ طور پر قتل کرنے کے علاوہ اُس کے 450 اماراتی درہم اور موبائل فون چُرانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس قتل کو قتلِ عمد قرار دیتے ہوئے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے جو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

ملزم نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اُس نے مقتولہ کے ساتھ پیسوں کے بدلے میں جنسی عمل کیا تھا۔ تاہم اُس نے مقتولہ کو دانستہ طور پر قتل کرنے کے الزام کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ملزم نے عدالت میں جج کے سامنے بیان دیا کہ جب اُسے پتا چلا کہ مقتولہ نے اُس کے بٹوے سے پیسے نکال لیے ہیں تو اُس نے واش رُوم میں جا کر اُسے گردن سے پکڑا اور پھر فلیٹ سے نکل آیا ۔

ملزم کے مطابق جب اُس نے مقتولہ کی گردن چھوڑی تو وہ بے ہوش ضرور تھی مگر سانس لے رہی تھی۔ ملزم کے مطابق اُس نے موبائل فون بھی چوری کیے مگر پیسوں کی چوری نہیں کی۔ ملزم نے اپنے دفاع میں کہا کہ اُس نے ملزمہ کو جس جگہ چھوڑا تھا‘ پولیس جب اُسے جائے وقوعہ پر لے کر گئی تو اُس کی لاش دُوسری جگہ پر موجود تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمہ اُس کے گلہ گھونٹنے سے ہلاک نہیں ہوئی۔ 27مارچ 2018ء کو مقدمے کی اگلی سماعت کے موقع پر عدالت کی جانب سے ملزم کے لیے وکیلِ صفائی کا تقرر کیا جائے گا۔