سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس

وزارت پیٹرولیم ،ماتحت اداروں ، کارپوریشنز ، کمپنیوں اور تنظیموں کے کام کے طریقہ کار ، ذمہ داریاں ، کارکردگی ، بجٹ اور درپیش مسائل کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

جمعرات جون 16:27

سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت پیٹرولیم او ر اس کے ماتحت اداروں ، کارپوریشنز ، کمپنیوں اور تنظیموں کے کام کے طریقہ کار ، ذمہ داریاں ، کارکردگی ، بجٹ اور درپیش مسائل کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ جی آئی ڈی سی کے حوالے سے سینٹ کی خصوصی کمیٹیوں کی طرف سے دی گئی سفارشات پر عمل درآمد اور ایل این جی کی امپورٹ کے حوالے سے کئے گئے حکومت اورٹرمینل اتھارٹیز کے مابین معاہدے کی تفصیلات ایل این جی ٹرمینلز ، سپلائی ، پیداوار ، استعمال ، ضائع ہونے والی استداد کار اور دیگر معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

سیکرٹری و ایڈیشنل وزارت پیٹرولیم نے قائمہ کمیٹی کو پیٹرولیم ڈویڑن کے کام کے طریقہ کار ، بجٹ و دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویڑن 1977میں قائم ہوئی اور اگست 2017میں نئی وزارت توانائی، پیٹرولیم اور پاور ڈویڑن قائم کی گئی۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 15ادارے جن میں اوگرا،، پاکستان اسٹیٹ اوئل،،پاکستان پیٹرولیم لیمیٹڈ ،پاک عرب ریفائنری ، سوئی نادرن و سدرن ، پاکستان ایل این جی ودیگر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی مختلف ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے جن میں گیس 38فیصد ، ایل این جی 6فیصد ، تیل 34فیصد ، ایل پی جی 01فیصد ، کوئلہ 8فیصد اور پن بجلی کے ذریعے 10فیصد تیار کی جاتی ہے۔ تیل و گیس کی تلاشی کے لیے 8.3لاکھ سکوائر کلومیٹر مخصوص کیا گیا ہے جس میں سے 3.4لاکھ اسکوائر کلومیٹر میں تلاش جاری ہے۔ 1055کنوئیں کھودے گئے ہیں جن میں تیل و گیس تلاش کیا جارہاہے جبکہ ڈویلپڈ کنوؤں کی تعداد 1386ہے۔

تیل و گیس کی تلاش کی کامیابی کی شرح 34 فیصد ہے۔ اب تک 174لائسنس کا اجرائ کیا گیا ہے اور 180لیزیں دی گئی ہیں۔57ٹریلین کیوبک فٹ گیس دریافت کی گئی ہے جس میں سے 36ٹریلین کیوبک فٹ کی پیداوارحاصل کرلی گئی ہے اور 21ٹریلین کیوبک فٹ کے ذخائر باقی ہیں جو 13سال موجودہ تناسب سے چل سکتے ہیں۔ پاکستان میں تیل کے ذخائر 1197ملین بیرل ہیں جن میں سے 865ملین بیرل حاصل کرلی گئی ہے اور 332ملین بیرل ذخائر موجود ہیں جو موجودہ طلب کے تناسب سے 10سال تک کے لیے کافی ہیں۔

قائمہ کمیٹی کوبتایا گیا کہ نان ڈویلپمنٹ بجٹ 18.7کروڑ ہے جبکہ ڈویلپمنٹ بجٹ 17.9کروڑ ہے۔ قائمہ کمیٹی کو ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشنز، ڈائریکٹوریٹ جنرل آئل،ڈائریکٹوریٹ جنرل گیس ،ڈائریکٹوریٹ جنرل ایل جی اور ڈائریکٹوریٹ جنرل معدنیات کے کام کے طریقہ کار اور ذمہ داریوں بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2016-17میں 26.4ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات استعمال کی گئیں۔

ملک کی ضرورت کاکروڈ آئل 15فیصد ملکی ہوتا ہے جبکہ 85فیصدامپورٹ کیا جاتا ہے اور ملکی سطح پر نکلنے والے آئل کو 6بڑی اور 2چھوٹی آئل ریفائنریوں سے صاف کیا جاتا ہے اور مالی سال 2016-17میں حکومت نے 167.45ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی وصول کی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں ملک کی سب سے بڑی آرٹ ریفائنری قائم کی جارہی ہے جس میں یومیہ 2.5لاکھ بیرل تیل ریفائن کیا جائے گا۔

اس منصوبے کی لاگت 5ارب یو ایس ڈالر ہے۔ یہ منصوبہ 2023میں مکمل ہوگا۔ قائمہ کمیٹی کوبتایا گیا کہ سوئی سدرن گیس لمیٹڈصوبہ سند ھ اور بلوچستان گیس کی سپلائی کرتی ہے جس کے صارفین کی تعداد 8.8ملین ہے اور ٹرانسمیشن نیٹ ورک پائپ لائن 12794کلومیٹر ہے جبکہ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پائپ لائن 163497کلومیٹر ہے اور ملکی سطح نیچرل گیس کی پیداوار 4ہزار ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ آر ایل این جی کی امپورٹ 1ہزار ہے۔

ایل این جی دو مراحل میں شروع کی گئی اس کا پہلا آپریشن 2015میں 6سو ایم ایم سی ایف ڈی شروع ہوا جبکہ 2018میں دوسری دفعہ سپلائی شروع کی گئی۔ ایل این جی کی سپلائی کا معاہدہ قطر سے 15سال کے لیے ہوا۔ گنورسے 5سال کے لیے ، ای این آئی سے 15 سال کے لیے معاہدات کیے گئے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایل پی جی پر پیٹرولیم لیوی کی مد میں1.7ارب روپے اکٹھے کیے گئے ہیں اور ای سی سی نے 50ایل پی جی ایئر مکس منصوبوں کی منظور ی بھی دے رکھی ہے۔

قائمہ کمیٹی کو پاکستان میں نمک اور کوئلے کی پیداوار بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ جس علاقے میں تیل وگیس کی پیداوار نکالی جارہی ہو وہاں کے لوکل مقامی انتظامیہ کیساتھ سیاسی نمائندو ں کو بھی شامل کیا جائے۔ سینیٹر بہرامند خان تنگی نے کہا کہ ذیلی کمیٹی بناکر کرک و کوہاٹ و دیگر تیل و گیس کے علاقوں کا دورہ کیا جائے اور وہاں ویلفیئر کے کاموں کا جائزہ لیا جائے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سالانہ 1.2ارب روپے کمیونیٹی ویلفیئر پر خرچ کیے جاتے ہیں اور 78فیصد بلوچستان میں خر چ ہوتے ہیں۔ جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیسے ڈی سی کے اکاؤنٹ میں پہنچ جاتے ہیں مگر چیزیں نظر نہیں آتی اس کی مانیٹرینگ کی جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تیل و گیس کی تلاش کے لیے این او سی وزارت دفاع جاری کرتا ہے جو پچھلے کئی عرصوں سے جاری نہیں ہوئے جس کی وجہ سے بے شمار بلاکس خالی پڑے ہیں اور کئی کمپنیاں ملک چھوڑ کر جاچکی ہیں۔

چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ مہینے کے آخر میں حکومت کے اعلان سے پہلے ہی ٹی وی پر پیٹرولیم مصنوعات میں تجویز کیے گئے اضافے کی ٹکرز اور بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی ہے جس سے ایک مخصوص مافیہ عوام سے وقت سے پہلے ہی زائد قیمتیں وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔ جس پر سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ اوگرا سے سمری کا بند لفافہ وصول ہونے سے پہلے ہی ٹی وی پر خبریں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں۔

جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ ایسا ہوا تو معاملہ ایف آئی ا ے اور نیب کو بھیج دیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدوں اور دیگر تمام تر تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کرلی اور ایوان بالا کی جی آئی بی سی کے حوالے سے دو خصوصی کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کردی جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ معاملہ عدالت میں بھی زیر سماعت ہے۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزلیفٹننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی ، شمیم آفریدی ، سلیم ضیائ ، فدا محمد ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور بہرامند خان تنگی کے علاوہ سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری پیٹرولیم ، ایم ڈی سوئی سدرن ، ایم ڈی نادرن ، ایم ڈی پی ایس اورو دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔