بلوچستان مزید نفرتوں پر مبنی لسانی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا،بلوچستان عوامی پارٹی

نفرتوں اور تعصب کی سیاست قومی یکجہتی کیلئے زہر قاتل ہے جس کا خاتمہ نہایت ضروری ہے،رہنمائوں کا تقریب سے خطاب

جمعرات جون 16:27

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماوں نے کہا ہے کہ بلوچستان مزید نفرتوں پر مبنی لسانی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا نفرتوں اور تعصب کی سیاست قومی یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہے جس کا خاتمہ نہایت ضروری ہے بلوچستان عوامی پارٹی عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے جو بغیر کسی امتیاز کے پورے پاکستان اور بلوچستان کے تمام قبائل افراد علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زار ہو کر جوق در جوق بی اے پی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔

یہ بات بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری منظوراحمدکاکڑ،سینیٹر نصیب اللہ بازئی ، ملک خدا بخش لانگو،علاؤ الدین کاکڑ،توصیف گیلانی ،شمس مینگل اوردیگر نے لورالائی سے سردار محمدلال کاکڑ اور زیارت سے شمروز خان کاکڑ کی اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کے موقع پرمقامی ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

اس سے قبل سردار محمدلال کاکڑ اور شمروز خان کاکڑ نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پارٹی کے مرکزی صدر جام کمال خان ،جنرل سیکرٹری منظوراحمد کاکڑ اوردیگرقائدین کی قیادت پر مکمل اعتمادکا اظہار کرتے ہوئے باقاعدہ بی اے پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ زئی اور خیلی کی بنیادوں پر سیاست کرنے والی پارٹیوں کا دور گزر چکاہے سیاست میں مداری اور جادوگیری کا کھیل ختم ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ سعید احمد ہاشمی ایک با اصول سیاست دان ہیں جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھ کر صوبے کے عوام کو ایک خود مختار سیاسی پیلٹ فارم بنایا کافی عرصے سے ان کی خواہش تھی کہ اپنے لوگوں کو ان کا اپنا سیاسی فورم دیا جائے بی اے پی مظلوم طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور یہ تمام محرومیوں کا مداوا ثابت ہوگیانہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی آئندہ عام انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کرکے حکومت سازی کی مستحکم پوزیشن میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کہ بلوچستان عوامی پارٹی بلا امتیاز صوبے کے عوام کے معیار زندگی کی بہتری کیلئے قابل عمل اور ٹھوس اقدامات اٹھائے گی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ترقی کا عمل منجمد رہا جس کے باعث عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا وفاقی سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں رکھا جس کے نتیجے میں عوام کی سیاسی احساس محرومیوں میں اضافہ ہوا فیصلہ ساز اداروں میں بلوچستان کی موثر و حقیقی نمائندگی سے سیاسی احساس محرومیوں کا مداوا ممکن ہے جو دیگر تمام معاملات کے حل میں معاون ثابت ہوگا ۔