نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پرن لیگ کا نظرثانی کامطالبہ مسترد

الیکشن کمیشن میرٹ پرفیصلےکرتا ہے،الیکشن کمیشن پر بےجا تنقید کسی صورت مناسب نہیں ہے،سیاسی جماعتیں نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری پرفیصلہ کرنےمیں ناکام ہوئیں،الیکشن کمیشن نےآئین کےمطابق فیصلہ کیا ہے۔ذرائع الیکشن کمیشن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات جون 16:26

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پرن لیگ کا نظرثانی کامطالبہ مسترد
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 جون 2018ء) : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پرمسلم لیگ ن کا نظرثانی کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میرٹ پر فیصلے کرتا ہے،،الیکشن کمیشن پر بے جا تنقید کسی صورت مناسب نہیں ہے،سیاسی جماعتیں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پر فیصلہ کرنے میں ناکام ہوئیں تو الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی تقرری پرنظر ثانی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پر فیصلہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔جس کے بعد الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کافیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن فیصلے کسی کی ایماء پرنہیں بلکہ الیکشن کمیشن میرٹ پر فیصلہ کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن پر بے جا تنقید کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ واضح رہے مسلم لیگ ن نے حسن عسکری کی بطورنگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد کردی ہے،،مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے،،الیکشن کمیشن نے پنجا ب میں الیکشن کمیشن کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے،حسن عسکری کی موجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہوں گے،بدقسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا نام نامزد کیا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں احسن اقبال،، خواجہ سعد رفیق،، خرم دستگیرودیگر رہنماؤں کے ہمراہ الیکشن کمیشن کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی نامزدگی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دیے گئے نام متنازع تھے۔ہمارے امیدوار جسٹس ر سائر علی اور ایڈمرل ذکاء اللہ غیرجانبدار آدمی ہیں۔حسن عسکری اور ایازمیر کے خیالات آپ ٹی وی پردیکھ سکتے ہیں اور اخبارات میں پڑھ سکتے ہیں۔

نگراں حکومت کا کام کسی کی طرف داری کرنا نہیں ہوتا جو جمہوری عمل کیخلاف ہو۔بدقسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا نام نامزد کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حسن عسکری کو شام کو ٹی وی پرسنا جاسکتا ہے جو کہ وہ اپنے خیالات مسلم لیگ ن کے حوالے سے رکھتے ہیں۔ان کی تقاریراور آرٹیکل بھی موجود ہیں۔انہوں نے اس موقع پرحسن عسکری کے ن لیگ کے خلاف مضامین بھی پڑھ کرسنائے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے الیکشن کمیشن کو تمام ریکارڈ بھیء بھیجا تھا۔شاہد خاقان نے کہاکہ پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔۔الیکشن کمیشن نے پنجا ب میں الیکشن کمیشن کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔حسن عسکری کی موجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نےمسلم لیگ ن کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی نامزدگی کو مسترد کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

دوست محمد خان کوخیبرپختونخوا میں ہم نے نامزد نہیں کیا تھا۔ اسی طرح حسن عسکری کو الیکشن کمیشن نے نامزد کیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ان لوگوں کوغیرجانبدارلوگوں پر اعتراض ہے۔ حسن عسکری کو کسی بھی طرح سے پی ٹی آئی کا سپورٹر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پرتحفظات رکھنے پرحیرانی ہوئی ہے۔