مقبوضہ کشمیر ہارئیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی ضلع اسلام آباد کی رہائشی دو بہنوں کی تھانوں میں نظر بند ی کی مذمت

بھارتی پولیس کشمیری نوجوانوں کیساتھ لڑکیوں کو بھی تھانوں میں طلب کررہی ہے، بیان

جمعرات جون 16:49

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میںہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی غیر قانونی طور پر نظر بند رکھنے ،انہیں تھانوںمیں پیش ہونے او ر حکم عدولی کی صورت میں ان کے گھروں پر چھاپے مارکر والدین کو گرفتار کرنے کی بھارتی پولیس کی کارروائیوںکی شدید مذمت کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بار ایسو سی ایشن کی طرف سے سرینگر میں اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارتی پولیس نے ضلع اسلام آباد کی رہائشی دوبہنوں کو قصبے کے صدر تھانے میں غیر قانونی طور پر نظر بند کر رکھا ہے ۔

بیان میں کہا گیا کہ نظر بندی کی وجہ سے ان میں سے ایک بہن پوسٹ گریجویشن کے جاری امتحانات میں شامل نہ ہو سکی اور اس طرح سے اسکا تعلیمی مستقبل بھی تاریک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں شہریوں کے گھروں پر چھاپوں کو بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیری عوام کی عزت و قار کے تحفظ کے لیے آگے آئے۔

اجلاس کے ارکان نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے اطراف واکناف میں پھیلائی جانے والی خوف و دہشت کی لہر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کشمیریوں کو قتل،،معذور اور بصارت سے محروم کیا جا رہا ہے ،شہریوں کوسیاسی عقائد کی بنیاد پر جیلوںمیںبند کیا جاتا ہے اور لڑکوںکے ساتھ ساتھ جوان لڑکیوںکوبھی بے بنیادالزامات کے تحت دھر لیا جاتا ہے۔بار ایسوسی نے اپنے بیان میں کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ تحریک آزادی کے خلاف دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنائیں۔ بیان میں جمعتہ الوداع کو یوم قدس اور یوم کشمیر کے طور پر منانے کے مشترکہ حریت قیادت کے اعلان کی بھر پور حمایت کی گئی۔