شانگلہ میں ضلعی انتظامیہ کی کھلی کچہری عوام نے مسائل کے انبار لگا دئے،عوام محکموں کی کارکردگی سے نالاں

عوامی مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہئے ، ہر محکمہ پر کئے گئے اعتراضات کیلئے فوری طور پر افسران اقدامات اٹھائیں، عوامی مسائل کی حل کیلئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ موجود تمام وسائل کو بروئے کار لاکر ان کو حل کیاجائیگا، ڈپٹی کمشنر شانگلہ کا کھلی کچہری سے خطاب

جمعرات جون 17:46

الپوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) شانگلہ میں ضلعی انتظامیہ کی کھلی کچہری-عوام نے مسائل کے انبار لگا دئی-عوام محکموں کی کارکردگی سے نالاں-پورا شانگلہ مسائل کے دلدل میں نظر آرہا ہے -ترقیاتی وسماجی فنڈز کو عوامی فلاح و بہبود میں لگائی جائی- شانگلہ مسلسل قدرتی آفات کی زد میں رہ چکی ہے، یہاں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس دور میں بھی ضلع کے سکولز ،ہسپتال ، سڑکوں کی سہولیات اور پینے کے صاف پانی کا شدید فقدان ہی-انفراسٹرکچر کی تعمیرنوہونی چاہئے،سیاحت کے حوالے سے شانگلہ میں چھپے ہوئے خزانے ، قدرتی ابشاریں ، ہرے بھرے جنگلات ، میٹھے پانی کے چشمے ، تالاب ، ٹرائوٹ فش سمیت قدرتی حسن سے مالامال ضلع میں سیاحت پر خصوصی توجہ دی جائے -شانگلہ کے جنگلات میں کالی بھیڑیوں کی وجہ سے ٹمبر مافیا سر اٹھا رہا ہے اور اب جنگلات کو مولی گاجر کی طرح کاٹے جارہے ہیں ، کھلے عالم چینسوں کا بھر مار شروع ہے۔

(جاری ہے)

لیلونئی غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈہ ،اوور لوڈنگ،کمسن اور اناڑی ڈرائیوروں ،موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائی- کھلی کچہری میں شریک لوگوں ضلعی محکموں اور انتظامیہ پر برس پڑے ۔کھلی کچہری میں نے سب سے زیادہ شکایات محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ، محکمہ تعلیم زنانہ ، محکمہ زراعت ، محکمہ جنگلات ، محکمہ صحت، محکمہ ٹرانسپورٹ و محکمہ واپڈا پر شدید تنقید کی گئی اور عوام نے ان پر شدید انگلیاں اٹھائی -شانگلہ پریس کلب الپوری میں جمعرات کو منعقدہ کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر شانگلہ تاشفین حیدر سمیت ڈسٹرکٹ افسر فنانس اینڈ پلاننگ شا نگلہ حبیب اللہ وزیر، محکمہ پولیس کے آفیسر امجد علی خان ، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر خواجہ محمد فہیم ، اسسٹنٹ کمشنر الپوری طارق محمود ، تحصیلدار الپوری شیر دل خان ، ڈائریکٹر فشریز شانگلہ جعفر یحیٰ ، ڈائر یکٹر ر زراعت زبیر خان ،ڈائریکٹر پاپولیشن سعید الرحمن و دیگر نے شرکت کی۔

کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شانگلہ کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہئے ، ہر محکمہ پر کئے گئے اعتراضات کیلئے فوری طور پر افسران اقدامات اٹھائیں، عوامی مسائل کی حل کیلئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ موجود تمام وسائل کو بروئے کار لاکر ان کو حل کیاجائیگا۔ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے، مثبت تنقید اور کمیو ں کی نشاندہی جمہوری عمل ہے،اس کھلی کچہری کا اصل مقصد یو این ڈی پی کی جانب سے شانگلہ کو آنے والے فنڈ کی موزوں جگہ پر استعمال کرنا ہے ، سیاحت کے حوالے سے شانگلہ میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے سیاحت کے حوالے جامع پلان بنائیں گے ۔

ضلعی افسران عوام کے ساتھ نرمی بھرتیں اور اسانیاں پیدا کریں ، محکموں پر اعتراضات جو اکثر محکموں کا موقع ہی پر احکامات پر جاری کردئے ہیں ۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل فارسٹ آفیسر الپوری فارسٹ ڈویژن شانگلہ امجد علی نے کہا کہ محکمہ جنگلات میں موجود کالی بھیڑیوں کی نشاندہی کی جائے تو ان کو گھر بھیجا جائیگا ، جنگلات کی کٹائی کسی صورت قبول نہیں ، جہاں بھی غیر قانونی کٹائی ہو تو عوام اطلاع دیں ، میں بہ نفس نفیس موقع پر پہنچوں گا ، جنگلات کی کٹائی میں کوئی رعایت نہیں بھرتی جائیگی جنگلات قومی دولت ہے ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور فرض ہے -کھلی کچہری میں محکمہ تعلیم کے جن سکولوں میں استیانیوں کی عدم حاضری پر عوام نے اعتراض کیا تو محکمہ کا دودنوں کے اندر اندر متعلقہ سکولوں میں استانیوں کے حاضری یقینی بنانے کی یقین دہانی کردی -کھلی کچہری میں پینے کے صاف پانی کا فقدان اور محکمہ کی ناقص کارکردگی پر ڈپٹی کمشنر برہم ہوئے ، ایکسین پبلک ہیلتھ اپنے محکمے کا ڈیفنس کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کھلی کچہریوں میں واپڈا کی افسران کی عدم حاضری یہ محکمہ اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتی ۔ عوام غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ، سحری ، افطاری اور تراویح کے وقت لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ سے تنگ اچکے ہیں ۔ عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔۔