برین ٹیومر کی100سے زائد اقسام ہیں ، پاکستان میں آبادی کے تناسب سے ڈیٹا موجود نہیں ‘پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود

حال ہی میں برین ٹیومر کے علاج کیلئے پاکستان میں عالمی معیارکے مطابق طریقہ علاج سامنے آئے ہیں‘رسولیوں کے عالمی دن کے موقع پر گفتگو

جمعرات جون 18:00

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) طب کے شعبے میں جدید ریسرچ اور سرجری کی ترقی کی بدولت آج دماغی بیماریوں کا علاج باآسانی ہورہا ہے جس سے مریض کی زندگی کا معیار بلند ہوا ۔ برین ٹیومر کے عالمی دن کے موقع پر نیورو سرجن ایل جی ایچ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد دماغی امراض اور اُس کی پیچیدگیوں اور طریقہ علاج کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا ہے ۔

بدقسمتی سے پاکستان میں برین ٹیومر کے حوالے سے کوئی سینٹرل ڈیٹا موجود نہیں جبکہ امریکہ میں ایک لاکھ افراد میں برین ٹیومر کی22کیسز سامنے آتے ہیں اور اُن میں مختلف کیٹیگریز شامل ہیں ۔پروفیسر خالد محمود نے بتایا کہ برین ٹیومر کی علامات میں سر میں درد رہنا ، بینائی سے متعلق شکایات ، مرگی کی دورے پڑنا ، غنودگی اور سٹروک ہونا شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

موجودہ حالات میں اس مرض کی تشخیص انتہائی آسان ہو چکی ہے بعض کیسز میں دماغ کی ایم آر آئی سکین کے ذریعے ٹیومر کا سائز تک سامنے آ جاتا ہے اور لاہور جنرل ہسپتال کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں ایم آر آئی کی جدید سہولت 3ٹیسلا بھی موجود ہے ۔انہوں نے بتایا کہ برین ٹیومر کی 100سے زیادہ اقسام ہو سکتی ہیں جن میں بچپن سے لے کر زندگی کے مراحل میں مختلف جہتیں سامنے آتی ہیں ۔

پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ یہ نیورو سرجن پر منحصر ہے کہ وہ اس ٹیومر کو ختم کرنے کیلئے کونسا طریقہ اختیار کرتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں برین ٹیومر کے علاج کیلئے پاکستان میں عالمی معیارکے مطابق طریقہ علاج سامنے آئے ہیں جن میں تشخیص سے لے کر علاج تک جنرل ہسپتال میں تمام جدید سہولتوں کا استعمال عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں بغیر کسی درد کے ہوش میں رہتے ہوئے برین سرجری کو بھی برؤئے کار لایا جار ہا ہے اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز کو اس معاملے میں دیگر طبی اداروں کو سبقت حاصل ہے ۔

پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ عمومی طور پر برین ٹیومرکی سرجری میں شرح اموات 5فیصد ہے اور اس معاملے میں جدید طریقہ علاج اختیار کیے جا رہے ہیں البتہ برین ٹیومر جیسے حساس معاملے کیلئے مزید ریسرچ اور پاکستان میں مریضوںکو زیادہ سہولتوں کی فراہمی کی گنجائش موجود ہے۔