خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو مذبح خانوں سے متعلق مراسلہ ارسال کردیا

جمعرات جون 18:07

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے مذبح خانوں سے متعلق سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو مراسلہ ارسال کردیا، مراسلے میں سلاٹر ہاوسز کی ابتر صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے پی فوڈ اتھارٹی کی جانب سے لکھے گئے مراسلے کے متن کے مطابق ٹان ون میں واقع نجی سلاٹرہاس پر کے پی فوڈ اتھارٹی کے چھاپے کے دوران کئے انکشافات ہوئے۔

مراسلے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سلاٹرہاس کی حالت بالکل بھی صحت افزا اور کام کرنے لائق نہیں جو کہ سراسر حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ مراسلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ سلاٹرہاس کے مالک سے جب پوچھا گیا تو انکشاف ہوا کہ اسی روپے کی فیس میں وہ سلاٹرہاوس اصولوں کے معیار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ سکتا۔

(جاری ہے)

مراسلے کا متن ہے کہ اسلام کے مطابق بیمار، لاغر، معزور، حاملہ، اور زخمی جانوروں کو ذبح نہیں کیا جاسکتا اور اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے جبکہ اس نجی مذبح خانے میں یہ کام معمول بن چکا ہے۔

خط میں فوڈ اتھارٹی کی جانب سے اس بات برہمی کا اظہار کیا گیا ہے کہ بیمار، لاغر، نوزائیدہ اور معزور جانوروں کی حالت دیکھتے ہوئے بھی ویٹرنری ڈاکٹر ان کو ذبح کرنے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ طبی معائینے کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں۔ مراسلے میں یہ بھی بھی کہا گیا ہے کہ مالک نے ان تمام ترذمہ داریوں سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور تمام ترالزامات لائیوسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ویٹرنری ڈاکٹرز پر ڈال دی ہے۔

کے پی فوڈ اتھارٹی کے انسپکشن کے دوران کوئی بھی قانونی اور مجوزہ دستاویزات نہیں ملے جس سے مذبح خانے کی رجسٹریشن مشکوک دکھائی دیتی ہے۔ مراسلے میں تجویز دی گئی ہے کہ متعلقہ مذبح خانے اور اس میں ڈیوٹی انجام دینے والوں ڈاکٹروں کیخلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے، مزیدبرآں اگر مذبح خانہ رجسٹریشن رکھتا ہے تو اسے فوری طور پر کینسل کیا جائے اور معزور،لاغر، بیمارجانوروں اور نو عمر بحھڑوں کی ذبیحہ میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

مراسلے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا میں جدید خطوط پر استوار ایک مکینیکل سلاٹرہاس بنایا جائے جس میں ان تمام تحفظات کو دور کیا جائے اور عوام کو صاف اور حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق خوراک مہیا کیا جاسکے۔