آفات سے نمٹنے کا موثر نظام بہترین حکمت عملی کا عکاس ہے،چیئرمین این ڈی ایم اے

تمام ادارے عوام کی فلاح و ترقی کے لیے کوشاں ہیں ،آفات سے نمٹنے کے روایتی نظام کے علاوہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے بھی موثر حکمت عملی مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے ، کانفرنس سے خطاب

جمعرات جون 18:11

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کی جانب سے اسلام آبادمیں مون سون سے پہلے اداروں کی جانب سے ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے تیاریوں کے جائزہ کے حوالے سے قومی کانفرنس برائے تیاری مون سون کا انعقاد کیا ۔ کانفرنس کا مقصد مو ن سون کی تیاری کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کا جائزہ لینا اور صوبائی اداروں اوردیگر محکموں کے درمیان سیلاب سے نمٹنے، امدادی کاروائیوں اور سیلاب کے بعد بحالی کیلئے قومی، صوبائی اور علاقائی سطح پر تمام متعلقہ منصوبوں کی بابت ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

جمعرات کے روز منعقد ہونیوالی اس کانفرس کی صدارت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے کی۔انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کا آفات سے نمٹنے کا نظام اس کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تمام ادارے عوام کی فلاح و ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور ہمیں بھی آفات سے نمٹنے کے شعبہ میں موئثر اقدامات کے ذریعے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ۔

ا نہوں نے مزید کہا کہ آفات سے نمٹنے کے روایتی نظام کے علاوہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے بھی موثر حکمت عملی مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے وزارت اطلاعات نشریات ، وزارت پانی،، وزارت ریلوے کے اعلی عہدیداران ،مسلح افواج ، CDAسپارکو ، نیسپاک ، ، صوبائی ادارہ برائے آبپاشی ، تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ، GBDMA،SDMA اور ٖFDMAکے ڈائریکٹر جرنلز، اقوام متحدہ کی ایجنسیز ،،پاکستان بوائے سکائوٹ ایسوسی ایشن ،،پاکستان گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن ، اور تمام صوبائی اور وفاقی متعلقہ اداروں کے نمائندے موجود تھے ۔

محکمہ موسمیات پاکستان کی موسم کے بارے میں پیشن گوئی کے مطابق سال 2018 میں مون سون کے پہلے حصے میں معمول کے مطابق یا زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ اگلے حصہ اگست و ستمبرمیں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں ۔ جبکہ خیبرپختونخواہ اورشمالی پنجاب کے کچھ علاقوں میں اوسطاً زیادہ بارشیں ہوں گی۔ کئی جگہوں پر شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔

وفاقی کمشن برائے سیلاب کی جانب سے تمام صوبوں کو درپیش خطرات کی طرف خاص توجہ دلاتے ہوئے ڈیم مینجمنٹ کے لیے پالیسی پیش کی ۔نیشنل ہائی ویزے اتھارٹی نے ملک کے مختلف حصوں میں سڑکوں کی تعمیر اور بحالی خصوصاًقراقرم ہائی وے، گلگت سکردو روڈ، دیر چترال روڈ، راولپنڈی - مری -مظفرآباد روڈاورمانسہرہ -ناران روڈ کے لیے اپنے اقدامات کو پیش کیا۔

پاکستان آرمی انجینئرز ڈائریکٹوریٹ نے سول ایڈمنسٹریشن کی مدد اور ان کو تیار کرنے کے لیے اپنے اقدامات کو پیش کیا ۔ UNOCHA نے پاکستان میں وسائل ، صلاحیت اور معاونت کے طریقہ کارکی بابت معلومات کا تبادلہ کیا ۔این ڈی ایم اے کی جانب سے ممبر آپریشن این ڈی ایم اے نے مون سون 2018سے متعلق ہنگامی صورت حال کے رد عمل کے لیے ہدایات پیش کی گئیں ۔انہوں نے ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع پلان پیش کیا اور این ڈی ایم اے کی جانب سے کی گئی تیاریوں کے ببارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے تمام معاون اداروں سے موئثر اقدامات کے ذریعے عوام کے تحفظ کے یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔