سال 2018ء کے اختتام تک ملک بھر میں 1200میگا واٹ کا ونڈ منصوبہ قابل استعمال ہو جائے گا ، ماہرین

جمعرات جون 18:23

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برا ئے متبادل توانائی کی ترقی کا پہلا اجلاس فیڈریشن ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر زاہد سعید اور چیئرمین کمیٹی فواد جاوید نے کی ۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اجلاس جو ماہرین موجود تھے انہوں نے بتایا کہ سال 2018ء کے اختتام تک ملک بھر میں 1200میگا واٹ operational Wind Projectقابل استعمال ہو جا ئیں گے اور 200 میگا واٹ بجلی کے پر وجیکٹ بھی زیر تکمیل ہیں۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ زیا دہ تر مکمل ہو نے والے پر وجیکٹس نے تمام تر ٹیکنیکل مالیاتی مقاصد پورے کر لئے ہیں اور اپنے مالیا تی مقاصد کے پو را کر نے کے قر یب آگئے ہیں مگر ایم او یو کی وجہ سے حائل روکاوٹوں سے negationکی پا لیسی میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی نیrenewable energy سیکٹر کے تمام تر فوائد جو پاکستان کے دیگر انر جی وسائل کے عکس ہو نے سے حاصل ہو ں گے ان کے متعلق تبا دلہ خیا ل کیا مگر انہوں نے کہاکہ renewable energy پر وجیکٹ ان پر کسی قسم کی فیول کاسٹ نہی آتی اور اس کے ذریعے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو سکتی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے ممبرز کی ترجیح ہو سکتی ہے ۔

Wind اور سولر دونو ں فضائی ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور یہی وقت کی بھی ضرورت ہے کہ اس چیز سے انرجی حاصل کی جائے تاکہ پاکستا ن میں موجودہ کو کم کیا جا سکے ۔Wind اور سولرٹیکنا لو جی سے دن بد ن قیمت میںکمی آرہی ہے اور ان دونوں چیزوں Wind اور سولرسے دنیا بھی میں انر جی کی قیمت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ ابھی تک پاکستان امپورٹرز کو ئلہ اور LNG پر زیا دہ تر انحصا ر کر رہا ہے جس کی وجہ سے عام صارف کیلئے بجلی الیکٹرک کی قیمت نا قابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔

کمیٹی کے شر کاء نے اس بات پر اتفاق کرتے ہو ئے کہاکہ جب تک قدرتی انرجی کے کو استعمال میں نہیں لایا جائے، پاکستا ن مسلسل الیکٹر ک سٹی بجلی کی زائد قیمتو ں پر انحصار کر تا رہے گا اور آگے جا کر برآمدات کا حجم نیچے ہو جائے اور انڈ سٹر ی میں مسابقت نہیں ہو سکے گی۔ کمیٹی نے اس نظر یہ کو سختی سے رد کیا کہ LNGہی سے ہماری بچت ہے یہ بھی تبا دلہ خیا ل کیا کہLNGپلا نٹ میں ٹیرف کا تعین کرتے وقت کم دکھائے جا تے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلے ہی اس طر یقہ کے فیول سے 50 فیصد زیادہ بڑھ چکے ہیں اور دیگر یہ کہ پا کستانی روپے کی تیز ی سے گر تی ہو ئی قیمت ویسے ہی LNGکی قیمت بڑھا رہی ہے۔

انہوں کہا کہ LNG کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ Wind tariffs کی قیمت اپنی جگہ پر قا ئم ہے اب دیکھنا چا ہیے اور بجا ئے LNGپلا نٹس لگا نے کے Wind power کو دیکھا جا ئے ۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ LNGپلا نٹس کے بجا ئے Wind Plants ہی cheaper فیو ل رہے گا۔ کمیٹی شرکاء نے اظہار کیا کہ اعلیٰ سطح پر غلط فیصلوں کو جو CPPAG's power purchase agreements میں طے کئے ہیں ان کا مقصد یہی ہے کہ LNG پاور پر بھی انحصار کیا جائے خواہ اس کی کتنی بھی قیمت ہو جائے ۔

کمیٹی کے شرکاء نے بتا یاکہ دنیا بھر میں 550,000MW میگا واٹس Windپا ور سے حا صل کیے جاتے ہیں اور 220,000MW میگا واٹس سولر پاور سے حاصل کئے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان اس چیز میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، لہذا کمیٹی اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ انرجی سیکٹر کو تیزی سے آگے لا یا جائے اورحکومت کو اس چیز پر فوکس کرنا چاہیے۔کمیٹی کے اجلاس کے آخر میں نا ئب صدر زاہد سعید نے اس عز م کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی R.Eپر وجیکٹس سیکٹر کو سپورٹ کرتی ہے اور Wind اور سولر انرجی کے اس سلسلے طریقہ کار کو دوستا نہ ما حول میں تیا ر کیا جائے جو آگے چل کر کاروبا ری رہائشی صارفین کو پاکستان میں موجودہ معیشت کیلئے آسان اور ثالثی ثابت ہو سکتی ہے۔