ماہِ رمضان میں عوام سبزی اور پھل فروشوں کے رحم و کرم پر رہے ، عتیق میر

جمعرات جون 18:23

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے ماہِ رمضان المبارک میں گراں فروشوں کی اجارہ داری اور سرکاری اداروں کی ناکامی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہِ رمضان میں عوام مکمل طور پر سبزی اور پھل فروشوں کے رحم و کرم پر رہے، سبزی و پھلوں کی مصنوعی مہنگائی نے روزہ داروں کو سخت پریشانی میں مبتلاء رکھا، رمضان المبارک کی آمد پر مہنگائی کی روک تھام کے حکومتی انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

جمعرات کو جاری کردہ اعلامیہ میں انہوں نے کہا کہ حسبِ سابق رسمی طور پر قائم کی گئیں پرائس کنٹرول کمیٹیاں صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہیں، سبزیوں و پھلوں کی سرکاری قیمتوں کے تعین میں عجلت کا عنصر نمایاں رہا، سرکاری طور پر جاری کردہ فہرستوں میں بعض پھلوں کی قیمتیں غلط مقرر کی گئیں اور صارف کے بجائے ریٹیلر کو فائدہ پہنچایا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پھلوں کی قیمتوں کے تقرر میں محض خانہ پُری کی گئی اور ریٹیل قیمتوں کی فہرستوں کی تیاری میں فروٹ منڈی کی قیمتیں نظرانداز کی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے کئے گئے جرمانے گراں فروشوں نے اضافی قیمت کی صورت میں صارفین سے ہی وصول کرلئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فروٹ منڈیوں میں موجود موقع پرست آڑھتیوں اور گراں فروشوں کے خلاف موثر حکمت عملی کے تحت سخت ترین کارروائی نہیں ہوگی مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ آئندہ بھی ممکن نہیں ہوسکے گا، مستقبل میں کسی بھی قانونی کارروائی کے مثبت نتائج کے حصول کیلئے سبزی منڈی میں موجود مصنوعی مہنگائی کے طاقتور عفریت کے خلاف سخت ترین کریک ڈائون کرنا ہوگا۔

انہوں نے صارفین کے حقوق کے تحت سرگرم عمل تمام تنظیموں اور سرکاری طور پر کی جانیوالی تمام تر کوششوں کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کے تعین اور گراں فروشوں کی من مانیوں کی روک تھام کے خلاف ہر رمضان المبارک کی آمد پر حکمت عملی کا غیرموثر ڈرامہ رچایا جاتا ہے جس کا عوام کو کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا، حکومتی ادارے عوام کے جائز حقوق پر ڈالنے والے عناصر کے خلاف اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موقع پرست عناصر انتہائی دیدہ دلیری اور بے خوفی سے رحمتوں کے مہینے کو عبادت گذاروں کیلئے زحمتوں کا مہینہ بنادیتے ہیں جس کا پریس و میڈیا پر ہونے والا چرچا ساری دنیا میں پاکستان کے مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے جبکہ یہ مذموم عمل مذہبِ اسلام کی بھی بیحرمتی کا باعث ہے۔