سپریم کورٹ نے اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت ملتوی کر دی

جمعرات جون 18:56

سپریم کورٹ نے اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دل کرتا ہے کہ ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چندہ مانگوں، دوسری جانب درخت لگانے کا کام بھی صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے، پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیاگیا، لیکن ہم کیا کریں روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کرسکتے، ووٹ کوعزت دو کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں، پانی کے مسئلہ سے ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے جو مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے، آصف زرداری اورنواز شریف آکر بتائیں کہ پانی کے مسائل کے حل کے لئے ا نہوں نے کیا اقدامات کئے ہیں، کیوں نہ ان لوگوں پر پانی کے مسئلے کی ذمہ داری ڈالی جائے۔

(جاری ہے)

جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پانی کی قلت پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔ اس موقع پر میٹروپولیٹن حکام اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد ا لیا س بھٹی نے پیش ہوکر عدالت کو بتایا کہ دارالحکومت کو اس وقت 58.7 ملین گیلن پانی سپلائی کیاجارہا ہے جبکہ پانی کی طلب 120 ملین گیلن سے بھی ز ائد ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے کراچی کے بعد اب اسلام آباد میں بھی ٹینکرز کا پانی فروخت ہورہا ہے، یہاں دارالحکومت میں اس وقت 1500 روپے کا ٹینکر فروخت ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سملی ڈیم میں پانی نہیں جارہا، اگر اس پر توجہ دی جاتی توکسی حد تک معاملہ بہتر ہو سکتا تھا لیکن گزشتہ 2 حکومتوں نے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا۔

سماعت کے دورا ن میٹرو پولیٹن کارپوریشن حکام نے پیش ہوکرعدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں پانی کی قلت پرقابوپانے کیلئے تربیلا سے پانی لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، یہ 70 ارب روپے کا منصوبہ ہے، جس کیلئے صرف 500 ملین جاری کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتوں نے پانی کے ایشو کومد نظررکھتے ہوئے اس کیلئے فنڈز کا بندوبست کیا، پانی کے مسئلے کے ذمہ دار صاحب اقتدار لوگ ہیں، دل کرتا ہے کہ ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چندہ مانگوں، دوسری جانب درخت لگانے کا کام بھی صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے، پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیاگیا، لیکن ہم کیا کریں روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کرسکتے، ووٹ کوعزت دو کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں لیکن یہا ں ایسی صورتحال نہیں تاہم ہم پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا، اربوں روپے کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندر میں ضائع کر رہے ہیں، اگرا س معاملے پرتوجہ نہ دی گئی تو پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔

سماعت کے دوران سینئرقانون دان اعتزاز احسن نے کہاکہ پانی کے تحفظ کے لئے ملک بھرمیں پانی کے ذخائر بننے چاہئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ذخائر بننے چاہئیں لیکن پانی کون ذخیرہ کرے گا۔ عدالت کوایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اگراسلام آباد میں بارش نہ ہو تو 15 روزبعد یہاں پانی نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ پانی کے معاملے پر لاہور میں 4 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد پانی کی ایک بوند تک نہیں ملی۔

سابق وزیراعلٰی شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ 4 ارب خرچ کرنے کے بعد بھی لوگوں کو پانی نہیں مل سکا ہے ،آصف زرداری اورنواز شریف آکر بتائیں کہ پانی کے مسائل کے حل کے لئے ا نہوں نے کیا اقدامات کئے ہیں، کیوں نہ ان لوگوں پر پانی کے مسئلے کی ذمہ داری ڈالی جائے۔ ٹینکر مافیا اور سمینٹ مافیا والے اربوں روپے کا پانی پی گئے، یہی صورتحال رہی توپانی کا مسئلہ قوم کے لئے عذاب بن جائے گا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ میری خواہش ہے کاش میں پنجابی نہ ہوتا اور بلوچی یا سندھی ہوتا، اگر سندھی کی نظر سے دیکھتا تو شاید پانی کے مسئلے کی کچھ سمجھ آ جاتی، ہمیںکالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ھوگا۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ اتفاق رائے کے بغیر کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا۔ اس معاملے پر سب کے تحفظات دور ہونے چاہیئں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں منصوبوں کی گارنٹی دینے کی بات کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر کانفرنس کرانے پرتوجہ دی جائے گی تاکہ اس معاملے پرٹھوس تجاویز سامنے آسکیں، بعد ازاں عدالت نے اعتزاز احسن کو معاون مقرر کرتے ہوئے ان سے واٹر پالیسی پر دو سے تین دن میں تجاویز طلب کرلیں اورہدایت کی کہ اعتزاز احسن پینے کے پانی اور پانی کے ذخیروں سے متعلق تفصیلی رپورٹ بناکرعدالت کوپیش کریں۔