نگران وزیر اعلیٰ کے پی دوست محمد کی زیر صدارت پولیس افسران کا اعلی سطح اجلاس

نگراں وزیراعلی کی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمہ پولیس کو فوری رسپانس فورس تشکیل دینے کی ہدایت خفیہ معلومات اکٹھا کرنا، معلومات کا تبادلہ اور انٹلیجنس ا یجنسیوں کے درمیان رابطہ پر امن اور کامیاب انتخابات کے انعقاد کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے،، پولیس کو اپنی سرگرمیوں کو علیحدہ سے بھی مانیٹر کرنے کیلئے جامع پلاننگ اور وسیع منصوبہ ہونا چاہئے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام نے تمام محکموں کے مطلوبہ کردار میں اضافہ کر دیا ہے ، تمام محکموں کو مستقبل میں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے انتہائی حساس اور مستعد رہنا ہو گا ، دوست محمد کا اجلاس سے خطاب

جمعرات جون 19:03

نگران وزیر اعلیٰ کے پی دوست محمد کی زیر صدارت پولیس افسران کا اعلی سطح ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا دوست محمد نے قبل از انتخابات،، دوران انتخابات اور بعد از انتخابات کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمہ پولیس کو فوری رسپانس فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ خفیہ معلومات اکٹھا کرنا ،معلومات کا تبادلہ اور انٹلیجنس ا یجنسیوں کے درمیان رابطہ پر امن اور کامیاب انتخابات کے انعقاد کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے پیشہ ورانہ انداز میں نمٹا جا سکے ، شر پسندوں اور تخریب کاروں کی دراندازی کو روکا جا سکے اور صوبے میں معمولی اور سنگین دونوں نوعیت کے جرائم کی با ضابطہ چیکنگ اور ان پر قابو ممکن ہو سکے وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں انتخابات کیلئے شعبہ پولیس کی تیاریوں کے معیار کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے چیف سیکرٹری محمد اعظم خان، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود، انتظامی سیکرٹریوں اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

ڈی آئی جی محمد علی بابا خیل نے صوبے میں عام انتخابات کیلئے پولیس کی تیاریوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔انہوں نے پولیس کی استعداد اور کمزوریوں ،چیلنجز اور عزائم ،چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پولیس کی مجموعی تیاریوں کی تفصیل بھی پیش کی۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ نے صوبے میں جرائم پیشہ افراد کی دراندازی کو روکنے کیلئے تمام روٹس کی نگرانی کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ نگران حکومت انتخابات میں روڑے اٹکانے اور شرپسندی کی اجازت نہیں دے گی ۔

دوست محمد نے حساس علاقوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس عمل کو خفیہ ایجنسیوں کے سرچ آپریشن کی معاونت حاصل ہونی چاہئے اور پولیس کو بھی اس سلسلے میں خاطر خواہ کردار ادا کرنا ہے ، کسی بھی علاقے میں آنے جانے والے نئے افراد کی غیر معمولی سرگرمیوں پر پولیس کی طرف سے کڑی نظر رکھنا بڑی اہمیت کا حامل ہے پولیس نیٹ ورک مزید فعال ہو اور لوگوں کو شعوری طور پر بھی مستعد کیا جائے ،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس فورس کو بلا تاخیر حرکت میں آنا اور صورتحال کو کنٹرول کرنا ، پولیس کو اپنی سرگرمیوں کو علیحدہ سے بھی مانیٹر کرنے کیلئے جامع پلاننگ اور وسیع منصوبہ ہونا چاہئے یہ خطہ بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت کی وجہ سے بڑی اہمیت اختیار کر رہا ہے اور ہم اس نئے بین الاقوامی گیم پلان کو نظر انداز نہیں کر سکتے نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ جلد سیاسی قائدین کے ساتھ میٹنگ کریں گے تاکہ باہمی تعاون اور تجربات کا تبادلہ کیا جا سکے ہم انہیں اپنے اہداف ، ترجیحات اور تیاریوں سے آگاہ کریں گے اور صوبے میں آزاد ، شفاف اور پر امن انتخابات کے انعقاد کیلئے سیاسی قائدین کی تجاویز کو بھی سنیں گے اجلاس کو صوبے میں عوامی جلسوں اور کارنر میٹنگز کے انعقاد کیلئے ایس او پیز سے بھی آگاہ کیا گیا ۔

دوست محمد نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے فرنٹیئر کانسٹیبلری کی دوبارہ تعیناتی کیلئے متعلقہ حکام سے بات کریں گے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام نے تمام محکموں کے مطلوبہ کردار میں اضافہ کر دیا ہے ، تمام محکموں کو مستقبل میں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے انتہائی حساس اور مستعد رہنا ہو گا انہوں نے محکمہ پولیس کو عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہئے ہم نے دن رات کام کرنا ہے ، انتظامیہ کے پاس آگ بجھانے کے جدید آلات ہونے چاہییں، انہوں نے نا خوشگوار حالات سے نمٹنے کیلئے حساس پولنگ سٹیشنز پر حفاظتی اقدامات کرنے اور مناسب افرادی قوت کی تعیناتی سمیت خصوصی انتظامات کی ہدایت کی ہے ، بھاری ہتھیار اٹھانے کی قطعاً اجازت نہیں ہو گی اانہوں نے عندیا دیا کہ وہ صوبے میں بجلی سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے متعلقہ حکام سے بات کریں گے تاہم پولنگ سٹیشنز پر لوکل گورنمنٹ کی طرف سے بجلی کے لئے جنریٹرز کا اہتمام بھی کیا جا ئے گا دوست محمد نے کہا کہ آزاد، غیر جانبدار، شفاف اور پر امن انتخابات کا انعقاد ہمارا ہدف ہے جس کی طرف ہم بتدریج بڑھ رہے ہیں ، صوبائی حکومت اپنے وسائل اور اختیارات کے مطابق اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی ۔