مسلم لیگ (ن ) کا الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے حسن عسکری کے تقرر پرتحفظات کا اظہار

جمعرات جون 19:37

لاہور۔7 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے حسن عسکری کے تقرر پر اپنے تحفظات کا اظہار اور اسے مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کیلئے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے ، پہلے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ کال دے رہے ہیں کہ ووٹ کی حفاظت کرو اور مسلم لیگ (ن) کا ووٹر ملک کے چپے چپے میں اپنے ووٹ کی حفاظت کرے گا ۔

ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے احسن اقبال ، خواجہ سعد رفیق،، مریم اورنگزیب،، انجینئر خرم دستگیر ، رانا ثنااللہ اور دیگر کے ہمراہ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ تحریک انصاف نے ناصر خان کھوسہ کا نام دیا جس پر اتفاق رائے بھی ہوگیا تاہم یہ نام واپس لے لیا گیا ۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایڈمرل (ر) ذکا اللہ اور جسٹس (ر) سائر علی کے نام پیش کئے گئے اور یہ دونوں ایسے نام تھے جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا ان کا کسی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور سب کو معلوم ہے کہ ان کا جمہوری رویہ کیا ہوگا ، دونوں شخصیات کی غیر جانبداری اور دیانتداری پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا تھا جبکہ پی ٹی آئی نے ایاز امیر اور حسن عسکری رضوی کے نام پیش کئے اور یہ دونوں شخصیات ایسی ہیں کہ اگر ہر روز نہیں تو ہر دوسرے روز ان کو ٹی وی پر دیکھا جا سکتا ہے اور ان کی سوچ اور جانبداری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔

انہوںنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے کم از کم پنجاب کی سطح پر انتخابات کو مشکوک بنا دیا گیا ہے حالانکہ پارلیمانی کمیٹی نے ان کے آرٹیکلز سمیت دیگر ریکارڈ ساتھ لگا کر الیکشن کمیشن کو ارسال کیا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ اگر انتخابات شفاف نہیں ہوںگے تو عوام انہیں رد کر دیں گے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور غیر جانبدار اور ایسے شخص کو نگران وزیر اعلیٰ بنایا جائے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے جیسے ہم نے وفاق میں کیا ہے ۔

انہوںنے مزید کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں جو جمہوریت چاہتی ہیں اور ان کا رویہ جمہوری ہے ان کا اس پر رد عمل ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ اس ملک میں صاف اور شفاف انتخابات ہونے دیں اور یہ صاف اور شفاف ہوتے نظر آنے چاہئیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ 25جولائی کو انتخابات ہونا ملک کی ضرورت ہے ،ہم ہر قیمت پر پاکستان کی عوام کی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

پہلے ہم کہتے تھے کہ ووٹ کو عزت دو لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عوام کو کال دیتا ہوں کہ ووٹ کی حفاظت کریںاور مسلم لیگ (ن) کا ووٹر پاکستان کے چپے چپے میں ا پنے ووٹ کی حفاظت بھی کرے گا اور کسی کو یہ اجازت نہیں دے گاکہ وہ عوام کے مینڈیٹ پر کسی قسم کا ڈاکہ ڈال سکیں ۔ انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے عوام کی خدمت کی ہے اور ملک کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کے سفر پر ڈالا ہے ، دہشگردی ختم کر کے امن کے سائے پھیلائے ہیں ،،کراچی کی روشنیوں کو بحال کیا ہے ، بلوچستان کو قومی دھارے سے جوڑا ہے ، نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی کوششوں سے فاٹا مین سٹریم میں آیا ہے ،،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو تاریخی پیکج دئیے ہیں، سی پیک کی صورت میں ایسا پودا لگایا ہے جس کا پھل آنے والی نسلیں تیس سال تک کھائیں گی ۔

ہماری خدمات کے پیش نظر پاکستان کے عوام کا فیصلہ کوئی اور نہیں صرف مسلم لیگ (ن) ہوگا لیکن اس کو روکنے کیلئے جتنے جتن کئے جارہے ہیں ہم اس کا مقابلہ کریں گے او رانہیں ناکام بنائیں گے پاکستان مسلم لیگ اور ایک ایک ووٹر ووٹ کی حفاظت کرے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حسن عسکری پڑھی لکھی شخصیت اور ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن ان کے سیاسی تصورات اور نظریات واضح ہیں ۔

ان کا جمہوری ماڈل ہماری سوچ سے مختلف ہے ،وہ پی ٹی آئی کے ایک سپورٹر کے طو رپر ٹی وی پروگرامز میں نظر آتے ہیں ۔ ان کے درجنوں آرٹیکلز ہیں جن سے ان کی سوچ بڑی واضح ہے اس لئے میں اپیل کرتا ہو کہ انہیں اس منصب سے خود بخود پیچھے ہٹ جانا چاہے ۔ 25جولائی کو تاریخی انتخابات ہونے جارہے ہیں ان کی شخصیت کی وجہ سے ان انتخابات کو متنازعہ نہیںبننا چاہیے ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنا نام اس منصب سے واپس لیں گے کیونکہ وہ بالکل بھی غیر جانبدار نہیں ہیں۔