مالی سال 2018-19 کے لئے گلگت بلتستان کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش

جمعرات جون 20:55

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) مالی سال 2018-19 کے لئے گلگت بلتستان کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہی. ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی جعفراللہ خان کی زیر صدارت ہونے والے بجٹ سیشن میں صوبائی وزیر خزانہ حاجی اکبر تابان نے بجٹ ایوان میں پیش کیا. گلگت بلتستان کیلئے وفاق کی جانب سے اس سال ترقیاتی بجٹ میں 6ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ ایک ریکارڑ ہے۔

بجٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر ترقیاتی بجٹ کا 80 فیصد حصہ جبکہ نئی سکیموں کے لئے 20 فیصد حصہ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 63ارب 58 کروڑ 66 لاکھ 55 ہزار روپے ہے۔ 31ارب 64 کروڑ 46لاکھ 55 ہزار روپے غیر ترقیاتی بجٹ کیلئے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے ترقیاتی بجٹ کاتخمینہ 17 ارب روپے سے زائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے منصوبوں پر 7 ارب 9 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کئے جائنگے۔

(جاری ہے)

وفاقی حکومت گلگت بلتستان کیلئے گندم سبسڈی کے مد میں 7 ارب 84 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔۔پانی اور بجلی کے منصوبوں کیلئے 2 ارب 74 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہی.سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کی فراہمی کیلئے 7 کروڑ روپے مختص گئے ہیں . محکمہ تعلیم 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جس کے تحت 800 سے زائد مرد و خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی جبکہ 600 خواتین میں سلائی مشینیں تقسیم کی جائیں گی اور 500 یتیموں و بیواوں میں وظائف تقسیم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہی. ۔

محکمہ صحت کیلئے 4 ارب 23 کروڑ 35 لاکھ روپے بجٹ رکھا کیا گیا جبکہ مریضوں کے لیے آکسیجن، خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لئے 33 کروڑ 10 لاکھ 85 ہزار مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال کے بجٹ کی نسبت 75 فیصد زیادہ ہی. رواں مالی سال کے دوران 2500 فری میڈیکل کیمپ لگانے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ صحت کی سہولیات زیادہ سے زیادہ دی جا سکیں. محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کیلئے 41 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص، محکمہ اینٹی کرپشن کیلئے 86 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

تمام پنشنرز کیلئے 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔تمام سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس کی نسبت 2018-19کے بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ رواں مالی کے لیے سیاحت و ثقافت کے لیے 24 کروڑ 63 لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تعمیرات کے شعبے کے لئے 1ارب 3 کروڑ 7 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہی. مواصلات کے شعبے کے لئے 3 ارب 15 کروڑ 17 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہی. زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے 37 کروڑ 42 لاکھ روپے کی تجویز دی گئی ہے، شہری ترقی کے لئے 29 کروڑ 41 لاکھ روپے خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہی. معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لئے 10 کروڑ ایک لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہی. محکمہ ماہی پروری کے لیے 51 کروڑ 32 لاکھ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہی. ۔