لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہائوس کااجلاس

ٹاک شوز میں بیٹھے لوگوں کو قانون کی تشریح کرتے ہوئے سن کر ندامت ہوتی ہے۔ معزز جج صاحبان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال ہو رہے ہیں،مقررین

جمعرات جون 21:48

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) انوارالحق پنوں ، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی زیرِ صدارت لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہائوس کااجلاس منعقد ہوا اجلاس میں چوہدری نور سمند خان، نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن،حسن اقبال وڑائچ، سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور حافظ اللہ یار سپراء فنانس سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

حسن اقبال وڑائچ، سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، زاہد حسین بخاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ،، حافظ عبدالرحمن انصاری سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، احسان وائیں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور احمد اویس سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹاک شوز میں بیٹھے لوگوں کو قانون کی تشریح کرتے ہوئے سن کر ندامت ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

معزز جج صاحبان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 184(3)پر بھی رولز بنائے جائیں۔ محترمہ خدیجہ صدیقی کے کیس میں قانون کے مطابق مدعیہ کو اپیل کا حق حاصل ہے لہٰذا فریقین کو اپنی قانونی چارہ جوئی کرنے دی جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک / پرنٹ میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان اور عدلیہ کی تضحیک نہ کریں۔

بنیادی حقوق کی پاسداری / فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اب تک جن معاملات میں از خود نوٹس لئے ہیں اگر ان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے تو وہ غیر آئینی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون کو چیف جسٹس آف پاکستان کی عدالت میں پیش ہو کر ان کے سامنے گذارشات پیش کی جائیں کہ خدیجہ صدیقی کے کیس میں چونکہ مدعیہ کو اپیل کا حق قانون کے مطابق حاصل ہے لہٰذا یہ از خود نوٹس کا کیس نہ ہے۔

انوار الحق پنوں صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم میڈیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ آج کا اجلاس صرف سید تنویر احمد ہاشمی ایڈووکیٹ کے بیٹے کے کیس کی وجہ سے ہی نہیں بلایا گیا ہاں اسکی ایک وجہ یہ ضرور ہے کہ آج کے اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات پر غور و خوض کیا جائے گا۔ لہٰذا سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ از خود نوٹس لینے کے اصول وضع کئے جائیں جس کیس میں فریقین کے پاس اپیل کا حق موجود ہو وہاںاز خود نوٹس نہ لیا جائے۔

انہوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹاک شوز میں تفصیلی فیصلہ کو پڑھے بغیر بحث کی جاتی ہے۔ نیک نام ججز کو سوشل میڈیا پر بدنام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا بے جا تنقید عدالتوں پر دبائو ڈالنے کے مترادف ہے۔ فیصلوں پر تنقید برائے تضحیک بند کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا وکلاء آفیسر آف دی کورٹ ہیں نہ کہ کسی کے سپاہی۔ جب تک عدلیہ آئین کے تحت کام کرتی رہے گی ہم عدلیہ کے ساتھ ہیں۔ انوار الحق پنوں نے سید تنویر ہاشمی ایڈووکیٹ کی قرارداد رائے شماری کیلئے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔