مسلم لیگ ن کے بعد اے این پی نے بھی ڈاکٹر حسن عسکری کے نگران وزیر اعلیٰ ہونے پر اعتراض کر دیا

اس سے بہتر تھا کہ فواد چوہدری کو نگران وزیر اعلیٰ بنا دیتے وہ کم از کم جمہوری اقدار پر تو یقین رکھتا ہے ،ڈاکٹر حسن عسکری جمہور اقدار پر یقین نہیں رکھتے ، اے این پی کا موقف

جمعرات جون 20:11

مسلم لیگ ن کے بعد اے این پی نے بھی ڈاکٹر حسن عسکری کے نگران وزیر اعلیٰ ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-07 جون 2018ء) ::مسلم لیگ ن کے بعد اے این پی نے بھی ڈاکٹر حسن عسکری کے نگران وزیر اعلیٰ ہونے پر اعتراض کر دیا۔۔اے این پی کا موقف ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ فواد چوہدری کو نگران وزیر اعلیٰ بنا دیتے وہ کم از کم جمہوری اقدار پر تو یقین رکھتا ہے ،،ڈاکٹر حسن عسکری جمہور اقدار پر یقین نہیں رکھتے ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پنجاب کے نامزد نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کو متنازعہ قرار دے دیا ۔

ای این پی کا موقف ہے کہ حسن عسکری جانبدار شخص ہیں اور جمہوری اقدار پر یقین نہیں رکھتے ۔۔اے این پی کا کہنا تھا کہ اس سے بہتر تو یہ تھا کہ فواد چوہدری کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب کر لیا جاتا ۔فواد چوہدری کم از کم جمہوری اقدار پر یقین تو رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

انکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ڈاکٹر حسن عسکری غیر جانبدار انتخابات کروا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن پہلے ہی سے ڈاکٹر حسن عسکری کے نام کو بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب مسترد کر چکی ہے۔اس حوالے سے صدر مسلم لیگ ن میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حسن عسکری کابطورنگراں وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب غیرجانبداری نہیں۔حسن عسکری مسلم لیگ ن کے خلاف تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔حسن عسکری الیکشن میں تاخیر کے حق میں ہیں۔حسن عسکری کے انتخاب سے الیکشن کمیشن کا امیج بری طرح متاثر ہوگا۔