خوشحال پاکستان کیلئے بدعنوانی کا خاتمہ ناگزیر ہے،نیب مختلف ہائوسنگ اور کوآپریٹو سوسائیٹیز کی جانب سے متاثرین کی لوٹی گئی رقوم واپس دلانے کے لئے پر عزم ہے،نیب کے تمام شعبے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے قومی فرض کی ادائیگی جاری رکھیں گے

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا نیب ہیڈ کوارٹرز میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

جمعرات جون 22:21

خوشحال پاکستان کیلئے بدعنوانی کا خاتمہ ناگزیر ہے،نیب مختلف ہائوسنگ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ خوشحال پاکستان کیلئے بدعنوانی کا خاتمہ ناگزیر ہے،نیب بدعنوانی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب مختلف ہائوسنگ اور کوآپریٹو سوسائیٹیز کی جانب سے متاثرین کی لوٹی گئی رقوم واپس دلانے کے لئے پر عزم ہے ۔ نیب نے گزشتہ 7ماہ کے دوران بد عنوان عناصر سے 21سو ملین روپے وصول کرکے مختلف سوسائٹیز کے متاثرین میں تقسیم کئے ہیں جو کہ اہم کامیابی ہے ۔ انہوں نے نیب کے تمام شعبوں کی کارکردگی کی تعریف کی اور ہدایت کی کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال کرنے ہوئے قومی فرض کی ادائیگی جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے بد عنوانی کو متعقلہ فریقوں کی مدد سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 2017ء نیب کی بحالی کاسال تھا۔ آپریشن، پراسیکیوشن، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، آگاہی اور تدارک سمیت ادارے کے تمام شعبوں کے کام کے طریقہ کار کی خامیوں کا جائزہ لے کر انہیں فعال بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے قانون کے مطابق انکوائریاں اور انویسٹی گیشن کو میرٹ اور شفافیت پر نمٹانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جس سے نیب افسرا ن کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے جبکہ نیب کے مقدمات میں سزاء کی مجموعی شرح 77فیصد ہے جو کہ دنیا کے کسی بھی تفتیشی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے۔

انہوں نے کہاکہ شکایت کی جانچ پڑتال کے لئے 2 ماہ کی انکوائری اور انویسٹی گیشن کے لئے 4 ، 4 ماہ کا عرصہ مقرر کرکے کسی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بد عنوانی کی روک تھام کی درجہ بندی میں 175ویں سے 116ویں نمبر پر آگیا ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی اہم کامیابیاں ہیں۔

نیب کی انسداد بد عنوانی کی مؤثر حکمت عملی کے تحت یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس حکمت عملی کے مؤثر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے اور پولیس کے مقابلے میں 42 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم اور مشال پاکستان کے اقتصادی مسابقتی اشاریوں کے مطابق پاکستان 126 سے 122ویں نمبر پر آگیا ہے ۔ نیب کی کوششوں سے پاکستان کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بد عنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے اور اس کے لئے قوم کی نظریں نیب پرلگی ہوئی ہیں۔ نیب نے بدعنوانی کے مبینہ الزامات پر بلاامتیاز سیاستدانوں، بیورو کریٹس اور سابق فوجی افسران کے خلاف شکایات کی جانچ پڑتال اور انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز کی ہیں ۔ بلاامتیاز کارروائیوں سے نیب کا وقار بلند ہوا ہے۔ نیب نے بد عنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم جمع کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے۔

نیب افسرا ن بد عنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بد عنوانی کاخاتمہ صرف نیب نہیں بلکہ ہم سب کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اس کے مشترکہ طورپر مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ بد عنوانی کے خاتمے کے لئے ہم سب کو متحد ہونا ہو گا۔ نیب پاکستان کو بد عنوانی سے پاک کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے نیب افسرا ن کو ہدایت کی کہ وہ شافیت پر عمل کرتے ہوئے اپنا قومی فرض نبھائیں۔

متعلقہ عنوان :