کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیلئے پودوں کی سفارش کردہ تعداد، جڑی بوٹیوں کی تلفی، ضرررساں کیڑوں کا انسداد اور بروقت آبپاشی اہم مراحل ہیں،محکمہ زراعت پنجاب

جمعرات جون 22:27

لاہور۔7 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے پودوں کی سفارش کردہ تعداد، چھدرائی ، جڑی بوٹیوں کی تلفی، بیماریوں کا تدارک، ضرررساں کیڑوں کا انسداداور فصل کی بروقت آبپاشی وغیرہ بہت اہم مراحل ہیں۔ کپاس کی کاشت کے بعد چھدرائی کا عمل بہت ضروری ہے۔ اچھی اور معیاری پیداوار کے حصول کیلئے قطاروںاورپودوں کاسفارش کردہ درمیانی فاصلہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ پودے جگہ کی مناسبت سے بڑھوتری کر سکیں۔

کپاس کی بہتر پیداوار کیلئے پودوں کی فی ایکڑ تعداد 17 ہزار سی23 ہزار رکھی جائے اور مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے پودوں کا درمیانی فاصلہ9انچ تا12 انچ رکھا جائے۔ اگر پودوں کی تعداد زیادہ ہو تو پودوں کا قد بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور پھل دار شاخیں کم بنتی ہیںیا ان کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ پودوں کے نچلے حصوں تک روشنی نہیں پہنچتی اور سپرے بھی بہتر طور پر نہیں ہوسکتی۔

اگر پودوں کی تعداد کم ہو تو فی ایکڑ پیداوار بھی کم ہوجاتی ہے لہذا پودوںکی مناسب تعداد پوری کرنے کیلئے چھدرائی کا بروقت عمل انتہائی ضروری ہے۔ چھدرائی کا عمل بوائی سے 20 تا 25 دن کے اندر مکمل کر لیا جائے۔پہلی چھدرائی اس وقت کی جائے جب پودوں کا قد6 انچ ہو اور دوسری چھدرائی اس وقت کی جائے جب پودوں کا قد 12 انچ تک ہوجائے۔ چھدرائی کا مقصد ایک تو پودوں کی تعداد پوری کرنا اور ان کا درمیانی فاصلہ یکساں رکھنا ہے اس کے علاوہ دوسرا مقصد کھیت میں صرف صحت مند پودے رکھے جائیں اور کمزور یا بیمار پودے کھیت سے نکال دئیے جائیں۔

چھدرائی کے بعد جڑ ی بو ٹیوں کی تلفی بھی بہت ضروری ہے۔ کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی بہتات کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں 50 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔کھیت میں جڑی بوٹیاںاگ آنے کی وجہ سے کپاس کی فصل میںنمی کی کمی ہوتی ہے،پودوں کو خوراکی اجزاء کم ملتے ہیں اور یہ جڑی بوٹیاںنقصان دہ کیڑوںاور بیماریوں کی پناہ گاہ کے علاوہ ان کے پھیلائو کاکام کرتی ہیں۔

خاص طور پر یہ کپاس کی پتہ مروڑ وائرس ، سفید مکھی ، سبز تیلا اور ملی بگ کے پھیلائو کا باعث بنتی ہیں۔ کپاس کی جڑی بوٹیوں میں اٹ سٹ، لمب، مدھانہ گھاس، جنگلی چولائی، لہلی، قلفہ، تاندلہ، ہزار دانی اور ڈیلا وغیرہ اہم ہیں۔ فصل کو نقصان سے بچانے کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی کا مناسب بندوبست کرنا چاہیے اس کے لیے ضروری ہے کہ زمین کی تیاری کے وقت پچھلی فصل کی باقیات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

اس کے لیے روٹاویٹر اور مٹی پلٹنے والا ہل چلایا جائے تو بہت حد تک جڑی بوٹیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے کپاس کی فصل میں کاشت کے 45 تا 50 دن کے اندر حسب ضرورت ایک یا دو دفعہ خشک گوڈی کی جائے یا ٹریکٹر کی مدد سے لائنوں کے درمیان ہل چلائے جائیںتو جڑی بوٹیوں کو موثر طور پر تلف کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :