حکومت نے کسی بیل آئوٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ نہیں کیا، آرٹیکل فور کے تحت مشاورت فنڈ کے رکن ممالک میں اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے جائزہ عمل کا حصہ ہے، اس کا مقصد مذاکرات کرنا نہیں ہے، وزارت خزانہ

جمعرات جون 22:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) وزارت خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ حکومت نے کسی بیل آئوٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ نہیں کیا، آرٹیکل فور کے تحت مشاورت فنڈ کے رکن ممالک میں اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے جائزہ عمل کا حصہ ہے، اس کا مقصد مذاکرات کرنا نہیں ہے۔ جمعرات کو وزارت خزانہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سے منسوب میڈیا کے ایک بڑے حصے میں شائع ہونے والی خبر میں نگران وزیر خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ مزاکرات کے حوالے سے پالیسی فیصلہ پر سوال اٹھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کا کام الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں معاونت فراہم کرنا اور ریاست کے معمول کے امور نمٹانا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق سابق چیئرمین سینیٹ کا موقف قبل ازیں شائع ہونے والے اس نیوز آرٹیکل کا ردعمل ہو سکتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے آرٹیکل IV کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ اس خبر میں اصل صورتحال کی عکاسی نہیں کی گئی، آئی ایم ایف کے آرٹیکل فور کے تحت مشاورت آئی ایم ایف کی 189 رکن ممالک کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی مانیٹرنگ سے متعلق مجموعی زمہ داری کا حصہ ہے، آئی ایم ایف مانیٹرنگ میں رکن ممالک کے سالانہ دورے شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کا عملہ اپنی ایویلوایشن کی تکمیل پر ایگزیکٹو بورڈ کو رپورٹ پیش کرتا ہے اور بورڈ رپورٹ پر اپنے تاثرات متعلقہ ملک کے حکام کو ارسال کرتا ہے جس کے ساتھ یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ آرٹیکل فور مشاورت ایک سالانہ عمل ہے جو قبل ازیں مارچ 2018 میں اسلام آباد میں طے تھا۔ حکومت کی جانب سے سالانہ بجٹ برائے 2018-19 مئی میں پیش کرنے کے فیصلے کی وجہ سے اہم وزارتیں اور متعلقہ حکام بجٹ سازی کے عمل میں مصروف ہو گئے جس سے یہ عمل تاخیر کا شکار ہوا۔

اب آرٹیکل فور کنسلٹیشنز جون 2018 کے دوسرے حصے میں ہونے کا امکان ہے، یہ معمول کی مشاورت ہے اور اس کا مطلب آئی ایم ایف کے ساتھ مزاکرات کرنا نہیں ہے۔ وزارت خزانہ نے وضاحت کی کہ وزیر خزانہ کے بیان کو میڈیا کے ایک حصے میں غلط پیش کیا گیا ہے، حکومت نے کسی بیل آئوٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔