طالبان کے حملوں میں چوری شدہ امریکی جنگی سامان استعمال ہونے کا انکشاف

طالبان جنگی ساز و سامان پر قبضہ کرکے گنجان آباد علاقوں میں غائب ہو جاتے ہیں،افغان وزارت دفاع میں وسیع پیمانے پر کرپشن کیوجہ سے امریکی حکام کو افغانستان ملٹری سے معاملات نمٹنے میں شدیدچینلجز کا سامنا ہے،گزشتہ ماہ طالبان نے افغان وزارت داخلہ دفتر پر حملے میں چوری شدہ ہموی استعمال کیا

جمعرات جون 23:02

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان نیٹو افواج کا اسلحہ حاصل کرکے افغان حکومتی اداروں کیخلاف استعمال کررہے ہیں،حال ہی میں امریکی جنگی طیاروں نے تقریباً 40 ہموی گاڑیوں کو تباہ کیا جو طالبان نے گزشتہ چند برس میں افغان آرمی سے چھینی تھیں،،طالبان امریکی جنگی ساز و سامان پر اپنا قبضہ کرکے دور افتادہ علاقوں میں روپوش ہوجاتے ہیں،تاہم امریکی جنگی طیاروں کی جانب سے طالبان کے زیر قبضہ ہموی گاڑیوں کی تباہی محض ایک حصہ ہے۔

گزشتہ روز ترجمان امریکی ملٹری لیفٹیننٹ کرنل مارٹن او ڈونیل نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ افغانستان میں طالبان نیٹو افواج کا اسلحہ حاصل کرکے افغان حکومتی اداروں کیخلاف استعمال کررہے ہیں،حال ہی میں امریکی جنگی طیاروں نے تقریباً 40 ہموی گاڑیوں کو تباہ کیا جو طالبان نے گزشتہ چند برس میں افغان آرمی سے چھینی تھیں،،طالبان امریکی جنگی ساز و سامان پر اپنا قبضہ کرکے دور افتادہ علاقوں میں روپوش ہوجاتے ہیں،تاہم امریکی جنگی طیاروں کی جانب سے طالبان کے زیر قبضہ ہموی گاڑیوں کی تباہی محض ایک حصہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ طالبان ناصرف جنگی ساز و سامان پر قبضہ کرتے ہیں بلکہ انہیں افغان فورسز پر بھی استعمال کرتے ہیں،،افغانستان کے وزارت دفاع میں وسیع پیمانے پر کرپشن کے باعث امریکی حکام کو افغانستان ملٹری سے معاملات نمٹنے میں چینلجز کا سامنا ہے۔ترجمان نے کہا کہ جب نیٹو فورسز کو جنگی ساز و سامان کی چوری کا علم ہوا تو انہوں نے سامان کی بازیابی یا اس کو تباہ کرنے کے لیے فوری حکمت عملی تیار کی تاکہ دشمن فاہدہ نہ اٹھا سکے،،طالبان کے ہاتھوں امریکی سامان کی چوری سے ان کی جنگی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے،جس کی بنیاد پر امریکی یا افغان اہلکار بن کر گارڈز کو باآسانی دھوکا دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہینے طالبان نے افغان وزارت داخلہ پر حملے میں چوری کردہ ہموی کا استعمال کیا تھا،یو ایس اے ٹو ڈے نے سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز میں بطور تجزیہ کار سیتھ جان کا بیان شائع کیا جس میں انہوں نے کہا کہ دشمن کا اسلحہ اور سامان چوری کرنا گوریلا ور کے قوائد میں شامل ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے انکشاف کیا تھا کہ 2005 کے بعد سے امریکا نے افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے 95 ہزار گاڑیاں خریدیں لیکن اتحادی فوج افغان فورسز اور پولیس پر اعتماد نہیں کرتی،غیرمسلح ہموی گاڑی طالبان کو 70 ہزار ڈالر میں فروخت کی جاتی ہے،میدان جنگ میں نقصان پہنچنے والی ایک ہموی کو بعدازاں مرمت کے لیے بھی لایا گیا،امریکا نے افغانستان میں مجموعی طور پر 3 لاکھ سیکیورٹی فورسز اہلکاروں کی تنظیم سازی پر 2002 کے بعد سے اب تک 80 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔