ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہائوس میں مسلمانوں کیلئے افطار ڈنر کا اہتمام ، مسلم کمیونٹی حیران

جمعرات جون 23:41

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کے لیے افطار ڈنر کا اہتمام کرکے مسلم کمیونٹی کو حیران کردیا جبکہ گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ نے افطار پارٹی میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سفری پابندی سے متعلق فیصلے کو سپریم کورٹ میں قانونی چیلنجز کا سامنا ہے جس کا باقاعدہ فیصلہ رواں ماہ میں آئے گا۔

مسلمانوں پر مشتمل انسانی حقوق کے گروپس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افطار ڈنر کی مخالفت کرتے ہوئے افطار سے انکار کی مہم کا آغاز وائٹ ہاوس کے پارک میں کیا۔ گروپ کے مطابق امریکی صدر کے نفرت آمیز طرز عمل سے امریکی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور دھمکی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ وائٹ ہاس میں ہرسال افطار ڈنر کی روایت کلنٹن انتظامیہ سے چلی آرہی ہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے روایت توڑ ڈالی اور افطار ڈنر کی دعوت دینے کے بجائے رمضان میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس کا متن دہشت گردی سے متعلق تھا اور حالیہ حملوں سے متعلق کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے گمراہ کن نظریات کو شکست دینے کے لیے ساتھ دیا جائے۔گزشتہ ماہ وائٹ ہاس سے جاری اعلامیے میں نرم لہجہ اختیار کیا گیا جس میں امریکی صدر کی جانب سے رمضان مبارک درج تھا اور اعلامیے میں مسلمانوں کو رمضان کے روزے رکھنے پر حوصلہ افزا جملے تھے۔۔