لاہور ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کی قانونی حیثیت کے بارے میں درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی

جمعرات جون 23:41

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے نیب آرڈیننس کی قانونی حیثیت کے بارے میں درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی ہے۔ درخواست میں یہ دعویٰ کیا کہ 18 ترمیم کی منظوری کے نیب آرڈیننس 1999 کہ کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ ایک مردہ قانون ہے۔جس میں نیب آرڈیننس 1999 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا اور نیب آرڈیننس 1999 کی قانونی حیثیت پر مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

ہائیکورٹ کے روبرو درخواست کا جواب داخل نہیں کرایا جا سکا جس اٹارنی جنرل کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کی گئی۔ درخواست گزار تنظیم کے وکیل اے کے ڈوگر نے نشاندہی کی کہ جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر 1999 میں منتخب حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اور آرڈینینس کے تحت احتساب کیلئے نیب کا ادارہ قائم کیا گیا،درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں آئین کو معطل کر کے پی سی او کے تحت نظام حکومت چلائی ۔

(جاری ہے)

درخواست گزار تنظیم کے وکیل کے مطابق جنرل شرف کی ایمرجنسی کو تحفظ نہیں دیا کو 18 ترمیم میں تحفظ نہیں دیا گیا اس لیے 18 ترمیم کی منظوری کے بعد جنرل مشرف کے اقدامات ملنے والا قانونی تحفظ ختم ہوگیا۔ درخواست گزار کے مطابق نیب آرڈیننس کے ذریعے لوگوں ہراساں کیا جا رہا ہے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب آرڈیننس قانونی افادیت کھو چکا ہے اور اس کو قانونی تحفظ نہ ہونے کے باوجود استعمال کیا جا رہا ہے اس لیے اس قانون کو مردہ قانون قرار دیکر نیب آرڈیننس کے ہونے والی کارروائی کالعدم قرار دی جائے۔ درخواست پر آئندہ کارروائی 25 جون کو ہوگی۔