ڈیرہ بگٹی میں الیکشن قریب آتے ہی سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی

جمعرات جون 23:47

ڈیرہ بگٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) ڈیرہ بگٹی میں الیکشن قریب آتے ہی سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی ھے زرائع کے مطابق سیاسی گہماگہمی عروج پر پہنچ گئی ھے مگر اس الیکشن کی خاص بات سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولت ھے محض چند دنوں کے دوران کئی نامور قبائلی رہنما جو کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے بدترین سیاسی مخالفین تصور کیے جاتے تھے وہ بھی جوق درجوق سرفراز بگٹی کے حمایت میں ان کے ساتھ آ کھڑے ہوئے ہیں اطلاعات کے مطابق سرفراز بگٹی کے کارواں میں شامل ہونے قبائلی معتبرین علاقے میں اپنی ووٹ بینک اور مقبولیت کے باعث فیصلہ کن مقام رکھتے ہیں سرفراز بگٹی کے پارٹی میں شامل ہونے والے معتبرین میں سے سب سے اہم شخصیت چیف آف کلپر میر جلال کلپر بگٹی ہیں جنہوں نے گزشتہ روز سرفراز بگٹی کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کردیا چیف آف کلپر کے علاوہ نواب اکبر بگٹی کے زیلی شاخ راہیجہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے میر احمدان خان راہیجہ بگٹی کے بڑے صاحبزادے میر علی مراد بگٹی اور ان کے داماد میر عثمان خان بگٹی کی میر سرفراز بگٹی کی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت نے بھی مقامی سیاسی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا ھے کیونکہ بگٹی قبیلے کے تین اہم زیلی شاخوں راہیجہ کلپر اور مسوری قبائل کی حمایت کے بعد ڈیرہ بگٹی کے سیاسی میدان میں کسی امیدوار کو شکست دینا تقریبا" ناممکن ھے زرائع کے مطابق سرفراز بگٹی کی وجہ شہرت ان کی بہادری اور سیاسی بصیرت ھے کیونکہ ان کے دور حکومت میں نہ صرف امن و امان کے مسئلے پر قابو پایا گیا بلکہ ضلع کے ان علاقوں تک بھی سڑکوں کی جال بچھا دی گئی جہاں لوگ سڑکوں کے بننے کی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اور بیروزگار نوجوانوں کو بڑی تعداد میں روزگار بھی مہیا کی گئی اس کے علاوہ پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والے غریب اور زہین بچوں کو ملک کے اچھے تعلیمی اداروں میں اسکالر شپ اور نشستیں دلوائی گئیں زرائع کے مطابق ڈیرہ بگٹی کا مکین اور عام ووٹر اس الیکشن کے نتیجے میں بھی ترقی اور امن و امان کے تسلسل کو برقرار دیکھنا چاہتا ہے۔